مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراقی پارلیمنٹ کے رکن رفیق الصالحی نے عراق میں امریکی سفیر کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے مارک ساوایا کے حالیہ بیانات قابل مذمت اور یہ کھلی طور پر سفارتی آداب کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ عراق کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ساوایا کے بیانات اشتعال انگیز، بین الاقوامی قوانین سے متصادم اور عراق کی خودمختاری کو چیلنج کرتے ہیں۔ عراقی حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس معاملے پر سنجیدہ مؤقف اختیار کرے اور امریکی سفیر کو طلب کرکے ان بیانات پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عراق کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے اور اپنے داخلی امور میں خود مختار فیصلے کرنے کا حق رکھتا ہے۔
رفیق الصالحی کے مطابق مارک ساوایا اس سے قبل بھی عراقی مزاحمتی گروہوں کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں، اور اس بار بھی انہوں نے اپنے سابقہ مؤقف کو دہراتے ہوئے عراقی عوام کے سامنے ان گروہوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، جو ناقابل قبول ہے۔
آپ کا تبصرہ