مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی حکومت کے صدر اسحاق ہرتزوگ نے اعتراف کیا ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اور سابق وزیر جنگ یوآو گیلانٹ عالمی سطح پر شدید تنہائی کا شکار ہوچکے ہیں اور گرفتاری کے خوف کے باعث اہم بین الاقوامی اجتماعات میں شرکت سے گریز کررہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، اسحاق ہرتزوگ نے کہا کہ نتن یاہو اور یوآو گیلانٹ عالمی محافل میں بالخصوص سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقد ہونے والے اجلاسوں میں شرکت نہیں کر پا رہے، کیونکہ انہیں بین الاقوامی عدالت کی جانب سے جاری گرفتاری کے احکامات پر عملدرآمد کا خدشہ لاحق ہے۔
صہیونی صدر نے دعوی کیا کہ عالمی قانونی نظام کو استعمال کرتے ہوئے صہیونی حکام کو بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت سے روکنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے ان اقدامات کو صہیونی قیادت کے خلاف ایک رسوا کن گھیراؤ قرار دیا۔
ادھر صہیونی اخبار ہاآرٹز نے رپورٹ کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی جانب سے یہ اعلان سامنے آنے کے بعد کہ وہ نتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کے گرفتاری کے حکم کی پابندی کرے گا، صہیونی وزیر اعظم نے ڈیووس میں غزہ امن کونسل کی افتتاحی تقریب میں شرکت سے مکمل طور پر دستبرداری اختیار کرلی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، گرفتاری کے خدشے نے صہیونی قیادت کی عالمی نقل و حرکت کو سخت محدود کر دیا ہے، جس کے باعث نتن یاہو کی سفارتی سرگرمیاں غیر معمولی دباؤ کا شکار ہوگئی ہیں۔
آپ کا تبصرہ