پانامہ لیکس کی جانب سے دنیا بھر کے حکمرانوں اور دیگر شخصیات کی جانب سے خفیہ طریقے سے دولت بنائے جانے کے انکشافات کے بعد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فرانس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پانامہ لیکس کی جانب سے دنیا بھر کے حکمرانوں اور دیگر شخصیات کی جانب سے خفیہ طریقے سے دولت بنائے جانے کے انکشافات کے بعد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پانامہ لیکس کی جانب سے خفیہ طریقے سے دولت بنائے جانے کی دستاویزات جاری ہونے کے بعد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ آسٹریلین ٹیکس حکام نے منظر عام  پر آنے والی 800 شخصیات کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔واضح رہے کہ دنیا کی چوتھی بڑی لاء فرم موساک فونسیکا نے پانامہ لیکس کے نام سے ایک کروڑ 5 لاکھ خفیہ دستاویزات جاری کی ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے موجودہ و سابق حکمران، سیاسی شخصیات اور فلمی ستاروں کی جانب سے ٹیکس چھپانے کے لئے کس طرح سے خفیہ دولت بنائی گئی۔ ان دستاویزات میں پاکستان کے موجودہ وزير اعظم نواز شریف سمیت کئی شخصیات کانام بھی  شامل ہے۔