یورپی یونین نے پابندیاں پانچ برس پہلے عائد کی تھیں جب کیوبا نے پچہتر سیاسی مخالفین کو قید کی سخت سزائیں سنائی تھیں۔پابندیوں کے تحت یورپی یونین کے سینئر اہلکاروں کو بھی کیوبا جانے سے منع کر دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ برسلز میں جاری یورپی یونین کے اجلاس میں کیا گیا۔امریکہ نے کیوبا پر کئی عشروں سے پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ امریکہ نے یورپی یونین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کیوبا سے پابندیاں نہ اٹھائے۔ لیکن یورپی یونین نے امریکی فرمان کو نظر انداز کردیا ہے ۔ اور ایسا لگتا ہے کہ اب عالمی دنیا پر امریکی اثر و رسوخ ختم ہوتا جارہا ہے اور کوئی بھی ملک امریکی بات سننے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی امریکی پابندیوں سے کوئی ملک خو فزدہ ہوتا ہے۔
آپ کا تبصرہ