جمہوري اسلامي ايران كي وزارت خارجہ كے ترجمان جناب حميد رضا آصفي نے تہران ميں نامہ نگاروں سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ 29 جون سے سينٹريفيوج مشينوں كے پرزے بنانے اور اسے اسمبل كرنے كا كام دوبارہ شروع كر ديا جائگا

انھوں نے كہا كہ سينٹرفيوج مشينيريوں كي اسمبلنگ اور اسكے پرزوں كي ساخت كو رضاكارانہ طور پر روك دئے جانے كے بارے ميں ايران اور تين يورپي ملكوں كے مابين ہونے والے معاہدے كي كوئي حيثيت نہيں رہ گئي ہے اور ايران نے اس سمجھوتے كو نظرانداز كر دينے كے اپنے فيصلے سے تين يورپي ملكوں اور آئي اے اي اے (IAEA) كو باخبر كردياہے

 جناب آصفي نے اس بات پر افسوس كا اظہار كرتے ہوئے كہ يورپي ممالك نے ايران كے ساتھ سمجھوتے كے مطابق اپنے وعدوں پر عمل نہيں كيا ہے اور پورپ كا يہ موقف قابل مذمت ہے

جناب آصفي نے اس بات كا ذكر كرتے ہوئے كہ ايران آئي اے اي اے كے ساتھ تعاون جاري ركھنے پر مصمم ہے تہران كے شمال ميں لويزان كے علاقے ميں جوہري سائٹ كي موجودگي پر مبني امريكہ كہ حاليہ دعوے كي طرف اشارہ كيا اور كہا كہ ہم تيار ہيں كہ آئي اے اي اے   كے معائنہ كار لويزان كا معائنہ كريں تا كہ امريكہ كا جھوٹ سب كے لئے ثابت ہوجائے

News Code 90414

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 14 =