وزارت امور خارجہ كے ترجمان حميد رضا آصفي نے كہا كہ: صلح آميز ايٹمي پروگرام سے فائدہ اٹھانا ہماري قوم كا قانوني حق ہے جسكو ہم ہرگز نظوانداز نہيں كريں گے كيونكہ يہ وہ حق ہے جو بين الاقوامي اصولوں كے عيں مطابق ہے

خبر رساں ايجنسي مہر كے سياسي خبر نگار كي رپورٹ كے مطابق وزارت خارجہ كے ترجمان نے نامہ نگاروں كے ساتھ اپني ہفتہ وار پريس كانفرنس ميں تين يورپي ملكوں كو ہھيجے گئے خط اور اس سلسلے ميں امريكہ، ايٹمي انرجي كي عالمي ايجنسي اور يورپي ملكوں كے رد عمل پر بولتے ہوئے كہا كہ: كوئي اہم اور خاص اتفاق وقوع پذير نہيں ہوا ہے ہم نے تين يورپي ملكوں كے ساتھ تہران اجلاس ميں (جو سعدآباد اجلاس كے نام سے معروف ہے) اس بات پر اتفاق كيا تھا كہ فريقين ايك دوسرے كے ساتھ تعاون كريں اور ايران نے اعتماد كي فضا پيدا كرنے كيلئے رضا كارانہ طور پر يورينيم كي افزودگي كے عمل كو روك ديا تھا

انھوں نے كہا كہ ايران اب بھي خود كو اس اعلانيہ كا پابند سمجھتا ہے اور اسي سلسلے ميں ايٹمي انرجي كي عالمي ايجنسي كے ساتھ ايران كا تعاون جاري ہے اور رہے گا اور اسي طرح ايران نے NPT كے اضافي پروٹوكول كے سلسلے ميں بھي يورپي ملكوں كے ساتھ اچھا تعاور كيا ہے

News Code 90312

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 4 =