ایران نے ڈاؤوس میں ترکی کے وزیر اعظم کے احتجاج کا خیر مقدم کیا ہے

ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متکی نے ڈاؤوس میں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بربریت کو اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے درست قراردینے کی کوشش کی جسے ترکی کے وزیر اعظم نے انسانی و اخلاقی اور اسلامی بنیادوں پر ناکام بنادیا انھوں نے کہا کہ اسرائیلی صدر کی غلط بیانی پر رجب طیب اردوغان کے صبر کا پیمانہ ہاتھ سے چھوٹ گیااور انھوں نے اجلاس ہی میں اسرائیلی بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متکی نے ڈاؤس میں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی ان مسلمان ممالک میں شامل ہے جہاں غزہ میں اسرائیلی بربریت کے خلاف عوام نے کئی دنوں تک سڑکوں پر شدید احتجاجات کئے اور ترکی کے عوام کی دلی ہمدردیاں فلسطینیوں کے ساتھ ہیں اور یہ قدرتی بات بھی ہے کیونکہ فلسطینی مسلمان اسرائیل کی ظلم و ستم کی چکی میں گذشتہ ساٹ برسوں سے پستے چلے آئے ہیں انھوں نے کہا کہ ڈاؤس میں اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے غزہ میں اسرائیلی بربریت کو درست قراردینے کی کوشش کی جسے ترکی کے وزیر اعظم نے انسانی و اخلاقی اور اسلامی بنیادوں پر ناکام بنادیا انھوں نے کہا کہ اسرائیلی صدر کی غلط بیانی پر رجب طیب اردوغان کے صبر کا پیمانہ ہاتھ سے چھوٹ گیا کیونکہ اسرائیلی صدر جو کچھ کہہ رہے تھے وہ بالکل جھوٹ تھا اور غلط بیانی کو رجب طیب اردوغان نے سننا گوارا نہیں کیااور انھوں نے  اجلاس ہی میں اسرائیلی بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا۔اس اجلاس میں عرب یونین کے جنرل سکریٹری عمرو موسی اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون بھی موجود تھے متکی نے کہا کہ اردوغان کا احتجاج قدرتی اور حق بجانب تھا اور ایران ان کے اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

 

News Code 825930

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 3 =