جوہري پروگرام كے سلسلے ميں ايران كي پاليسي ميں كوئي فرق نہيں پڑے گا

نئي حكومت كے آنے سے ايران كےجوہري پروگرام ميں كوئي تبديلي نہيں آئے گي

مہر خبررساں ايجنسي كي رپورٹ كے مطابق تہران ميں اقوام متحدہ كي اصلاحات كے سلسلے ميں بين الاقوامي ماہرين اور مفكرين كااجلاس وزارت خارجہ كے ريسرچ سينٹر ميں منعقدہوا اس ميں وزير خارجہ ڈاكٹر خرازي نے كہا ہے كہ بڑي طاقتوں كي خود سرانہ پاليسيوں اور طاقت كے استعمال سے عالمي امن كو شديد خطرات لاحق ہيں انھوں نے كہا  كہ دہشت گردي كے خلاف جد وجہد اور ترك اسلحہ كے بارے ميں اقوام متحدہ كے سيكريٹري جنرل كوفي عنان كي نئي رپورٹ نامكمل ہے  انہوں نے كہا گذشتہ برسوں ميں اقوام متحدہ كو نہايت سخت چيلنجوں كا سامنا رہا ہے اور ايران نے اقوام متحدہ كے سركاري اور غير سركاري اجلاسوں ميں شركت كركے اپنے نظريات واضح كئے ہيں وزير خارجہ نے كہا ايٹمي مسائل كے سلسلے ميں اگر يورپ كي تجويزوں ميں يوري نيم كي افزودگي شامل نہ ہوئي تو تہران ان تجويزوں كو مسترد كردے گا انھوں نے كہا كہ ايران ميں نئي حكومت كے آنے سے ايٹمي مسائل ميں ايران كي پاليسي ميں كوئي تبديلي نہيں آئے گي اس اجلاس ميں مختلف ممالك كے مندوبين نے اپنے اپنے خيالات كا اظہار كيا

News Code 207578

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 14 =