ہميں اعتراف ہے كہ ہم نے عوام كو نہيں پہچانا  // نويں دور كے صدارتي انتخابات صحيح و سالم منعقد ہوئے ہيں // القاعدہ يعني صدر بش اور وزير اعظم ٹوني بليئر

آيت اللہ جنتي نے نويں دور كے صدارتي انتخابات اور ڈاكٹر احمدي نژاد كي كاميابي كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ نويں دور كے صدارتي انتخابات كي روشني ميں ہميں اس بات كا اعتراف كرنا چاہيے كہ ہم نے ابھي تك عوام كو نہيں پہچانا ہے اور ہميں عوام كے مطالبات كا احترام كرنا چاہيے

مہر كے سياسي نامہ نگار نے بتايا ہے كہ آيت اللہ جنتي نے نماز جمعہ كے خطبوں ميں كہا كہ عوام كا انتخابات ميں بڑے پيمانے پر شركت كرنا اپني جگہ درست ہے ليكن ہميں ديكھنا يہ ہے كہ عوام نے كس چيز كے لئے " نہيں " كہا ہے اور كس چيز كے لئے " ہاں " كہا ہے 

انھوں نے كہا كہ نئے منتخب صدر كے پاس نہ تو كوئي تبليغات كے لئے ساز وسامان تھا اور نہ اس كے پاس اتنےمالي وسائل ہي تھے اس كے باوجود كچھ لوگوں نے اس كو طالبان  ، متحجر اور سخت گير موقف كا حامي قرار ديا اور يہ تك كہا كہ يہ عوام كو كچل دے گا اور كسي كو يہ يقين نہيں تھا كہ ڈاكٹر احمدي نژاد انتخابات ميں جيت پائيں گے اور وہ بھي ووٹوں كي اتني بڑي تعداد سے ، اور ہمارا خيال غلط ثابت ہوااور ڈاكٹر احمدي نژاد كےانتخاب سے معلوم ہو گيا كہ عوام كچھ اور چاہتے ہيں  عوام نے سادہ زندگي ، صداقت ، ايمان اور زندگي كي بنيادي ضرورتوں پرتوجہ ركھنے كےلئے " ہاں " كہا ہے اور اسراف اور بےہودہ اخراجات و جھوٹ كے لئے "  نہيں " كہا ہے انھوں نے كہا كہ اسلام كي حقيقت سے مسلمان ابھي آشنا نہيں ہو سكا ہے اور آج اسلام پر دہشت گردي جيسے سنگين الزامات لگائے جارہے ہيں جب كہ اسلام كا دہشت گردي سے كوئي سرو كار نہيں ہے اور نہ ہي اسلام اس قسم كے وحشيانہ اعمال كي اجازت ديتا ہے القاعدہ كو امريكيوں نے اسلام كو بدنام كرنے كے لئے بنايا تھا اور آج وہ القاعدہ سے اسلام كے خلاف بھر پور استفادہ كررہے ہيں القاعدہ كے اعمال و حركات كو اسلام كا نام دے رہے ہيں اور يہ بالكل غلط ہے اسلام كا القاعدہ سے كوئي تعلق نہيں ہے القاعدہ كي تعبير اور تفسير بش اور بليئر كے سوا كچھ نہيں ہے القاعدہ يعني بش اور بليئر ، تم نے القاعدہ كو جنم ديا ہے القاعدہ تمہارا نامشروع فرزند ہے القاعدہ كي تمام خرابكارياں بش اور بليئر كے كھاتے ميں جاتي ہيں  نہ كہ اسلام كے  كھاتے ميں ، القاعدہ كي دہشت گرد كارروائيوں كو اسلام كي طرف منسوب كرنا سنگين جرم ہے

News Code 206687

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 8 =