بوسنيا كے شہر سريبرينتزا ميں آٹھ ہزار مسلمانوں كے قتل عام كي دسويں برسي

بوسنيا كے شہر سريبرينتزا ميں صرب فوج كے ہاتھوں ہزاروں مسلمانوں كے قتل عام كي دسويں برسي منائي گئي ہے

مہرخبررساں ايجنسي نے ذرائع كے حوالے ے نقل كيا ہے كہ انيس سو پچانوے ميں سرب فوج نے آٹھ ہزار بوسنيائي مسلمانوں كو ہلاك كر ديا تھا يہ دوسري عالمي جنگ كے بعد يورپ ميں سب سے بڑاگھناؤنا قتل عام تھا
پوٹوكاري كے قبرستان ميں ہلاك ہونے والوں كي ياد ميں ہونے والي تقريب ميں محتلف ممالك كےحكام حصہ لے رہے ہيں اسي دوران نئي شناخت ہونے والي 160 لاشوں كو بھي دفنايا جائے گا اس قتل
عام كے ذمہ دار كسي بھي مجرم كو نہيں پكڑا گيا ہے اس قتل عام ميں تقريبا آٹھ ہزار مسلمان مردوں اور لڑكوں كو مشرقي بوسنيا كے اس شہر ميں بے دردي سے قتل كيا گيا تھا بوسنيائي سرب فوج نے شہر پر، جسے اقوام متحدہ نے محفوظ قرار ديا تھا، حملہ كر كے مردوں اور جوانوں كو قتل كر ديا تھا

News Code 205346

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 3 =