حضرت فاطمہ(س) كي جبيں پر پيغمبر اسلام (ص) بوسہ ديتے تھے اور ان كے احترام ميں حضور كھڑے ہوجاتے تھے اور ان كو اپني جگہ پر بٹھاتے تھے

ميں نے اور ميرے ساتھيوں نے امت كو متحد كرنے كے لئے خلافت كو آپ (ص) كے اور علي (ع) و فاطمہ (ع) كے گھر سے نكال ليا فدك كو فاطمہ سے چھين كر بيت المال ميں شامل كرليا فاطمہ فدك كا مطالبہ كرتي رہيں اس نے علي (ع) و ام ايمن اور حسن و حسين (ع) كو گواہي كے طور پر پيش كيا ليكن ميں نے سب كي گواہي مسترد كردي فاطمہ روتي رہي اور ميں ديكھتا رہا ، علي (ع) گريہ كرتے رہے اور ميں ديكھتا رہا حسن اور حسين (ع) سسكياں ليتے رہے اور ميں ديكھتا رہا

مہر خبررساں ايجنسي كي اردو سروس كے مطابق حضرت فاطمہ زہرا عليہا السلام كي زندگي ايك ايسي ہي زندگي ہےكہ آپ بيٹي ہو نے كے رشتہ سے رسول خدا كي وارث ہيں، رفيق زندگي ہونے كے اعتبار سے شريك امامت ہيں ، اورام الائمہ ہو نے كے لحاظ سے ہر امام كے كمال و جمال كي آئينہ دارہيں، جوكچھ گيارہ اماموں كے كردار سے كل ظاہر ہو نيوالا ہے اس كا پر تو معصوم? عالم كي زندگي ميں جلوہ گرہے اور اولادكي منزل ميں "بنوھا"جمع كا صيغہ استمال كرديا تا كہ زہرا جملہ اوصاف وكمالات كي مصدر ومركز قرارپا جائيں

تاريخ نے صاف واضح كرديا ہےكہ كفار ومشركين كے ورثہ دار شام كے حكام ہيں اور محمد مصطفي كے وارث علي بن ابي طالب(ع) اور حسن و حسين بن علي عليہم السلام ہيں

اٹھارہ سال كي مختصر عمر اور اس ميں مصائب وآلام كي يہ كثرت كہ خود اپنے حال كا مرثيہ پڑھا ''مجھ پر اتنے مصائب ڈالےگئے كہ اگر دن پر پڑتے توراتوں كي طرح تاريك ہوجاتے" ليكن كيا كہنا بنت رسول (ص)كے صبر اور استقلال كا كہ نہ ذاتي اوصاف و كمالات ميں كوئي فرق آيا نہ خدمت مذہب وملت سے انحراف فرمايا، قوم ستاتي رہي اور سيدہ ہدايت كي دعائيں ديتي رہيں  دنيا گھر جلاتي رہي اور فاطمہ فرض تبليغ ادا كرتي رہيں  تاريخ گواہ ہے كہ نہ اس شان كا باپ ديكھا ہے نہ اس شان كي بيٹي، نہ اس كردار كا شوہر ديكھا ہے نہ اس عظمت كي زوجہ ، نہ اس جلالت كے بچے ديكھے ہيں نہ اس رفعت اور منزلت كي ماں ، رشتوں كے ساتھ فضيلتيں سيدہ كے گھر كا طواف كر رہي تھيں اور نسبتوں كے ساتھ عظمتيں فاطمہ كي ڈيوڑھي پر خيمہ ڈالے ہوئے ہيں ذاتي فضائل كا يہ عالم تھا كہ مصلائے عبادت پر آگئيں تو دنيا نور عبادت سے منور ہوگئي صبح كے وقت ايك نور ساطع ہوتا ظہر كے وقت دوسرانور اور مغرب كے ہنگام تيسرا نور، مدينہ نور زہراسے منور ہوجاتا اور فضيلت آواز ديتي نمازيں پڑھ كر خود مقرب بارگاہ بن جانا امت كا كام ہے اور نماز سے كائنات كو منور كر دينا بنت رسول كي منزل ہے اور ہميں اعتماد ہے كہ ہم دنيا ميں اپني بد نفسي كے بنا پر غافل ہوجائيں تو ہوجائيں ليكن وہ قيامت كے دن اپنے كرم سے غافل نہ ہوں گے جب ان كا دامن ہاتھ ميں ہے تو جنت بھي اپني ہے اور كوثر بھي اپناہے خدا بھي اپنا ہے اور رسول بھي اپنا ہے  ايمان بھي اپناہے اور كعبہ بھي اپنا ہے قرآن بھي اپناہے اور مختصر يہ ہے كہ ہم ان كے ہوگئے تو كل كائنات اپني ہے

پيغمبر اسلام (ص)كي رحلت كے بعد انكے بعض صحابہ حضرت فاطمہ (س) كے گھر كي حرمت پامال كرنے پر كمر بستہ ہوگئے خانہ وحي پر مسلسل حملوں اور دھمكيوں سے پيغمبر اسلام كي بيٹي تنگ آگئيں بعض صحابہ خلافت كو آنحضور كے گھر سے نكال كر اپنے گھر لے گئے اور كچھ ہي عرصے كے بعد خلافت كو ملوكيت كا لباس پہنا كر اسلام كا شيرازہ بكھير ديا وہ بي بي دوعالم جس كي جبيں پر پيغمبر اسلام بوسہ ديتے تھے جس كے احترام ميں حضور كھڑے ہوجاتے تھے جس كے بارے ميں حضور (ص) نے اصحاب سے بار بار كہا كہ " فاطمہ ميري پارہ جگر ہے جس نے اس كو اذيت دي اس نے مجھ كو اذيت دي ???" فاطمہ كي عظمت كو آنحضور (ص)نے بارہا اصحاب كے سامنے بيان فرمايا ليكن پيغمبر اسلام (ص)كي رحلت كے بعد بعض اصحاب نے حضور كي تمام وصيتوں كو پس پشت ڈال ديا اور انكي بيٹي كو اتنا ستايا كہ فاطمہ زہرا (س) نے وصيت كي كہ ميرے جنازے ميں ان صحابہ كوبالكل شركت نہ كرنے دي جائے جنھوں نے ميرا حق غصب كيا اور مجھ پر ظلم و ستم كے پہاڑ توڑے ہيں تاريخ طبري اور صحيح مسلم ميں ہے كہ پيغمبر اسلام كي بيٹي حضرت فاطمہ زہرا (س)نے ابوبكر اور عمر سے مرتے دم تك كلام نہيں كيا اور ابو بكر نے بھي اپني زندگي كے آخري ايام ميں اس بات كا اعتراف كيا ہے كہ كاش ميں نے نبي اكرم (ص)كي بيٹي كو پريشان نہ كيا ہوتا،  آہ ! ميں نے اپني بيٹي كا تواحترام كيااور سركار دوعالم كي بيٹي كو خون كے آنسو رلايا ، جب نبي مكرم (ص) اپني فاطمہ (س) كے بارے ميں مجھ سے سوال كريں گے تو ميں كيا جواب دوں گا ؟  يہي كہوں گا كہ ميں نے اور ميرے ساتھيوں نے امت كو متحد كرنے كے لئے خلافت كو آپ (ص) كے اور علي (ع) و فاطمہ (ع) كے گھر سے نكال ليا فدك كو فاطمہ سے چھين كر بيت المال ميں شامل كرليا فاطمہ فدك كا مطالبہ كرتي رہيں اس نے علي (ع) و ام ايمن اور حسن و حسين (ع) كو گواہي كے طور پر پيش كيا ليكن ميں نے سب كي گواہي مسترد كردي فاطمہ روتي رہي اور ميں ديكھتا رہا ، علي (ع) گريہ كرتے رہے اور ميں ديكھتا رہا حسن اور حسين (ع) سسكياں ليتے رہے اور ميں ديكھتا رہا ،اب ديكھنا يہ ہے كہ كيا سقيفہ كے اجماع نے امت كو متحد كرنے كےبجائے اس كو كہيں تہتر فرقوں ميں تقسيم تو نہيں كرديا ؟ جس كے بارے ميں پيغمبر اسلام نے فرمايا تھا كہ " ميري امت ميں تہتر فرقے ہونگے ان ميں سے ايك جنت ميں جائے گا باقي جہنم ميں جائيں گے "     

News Code 204701

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 1 =