پاكستان كے وزير داخلہ نے اعلان كيا ہے كہ القاعدہ كے رہنما اسامہ بن لادن افغانستان كے جنوب ميں ہوسكتے ہيں جہاں اس وقت طالبان نے اپنے حملوں ميں اضافہ كرديا ہے

مہر خبررساں ايجنسي نے فرانسيسي خبررساں ايجنسي كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ پاكستان كے وزير داخلہ آفتاب احمد شير پاؤ نے پاكستان كي سركاري خبررساں ايجنسي سے گفتگو كرتے ہوئے كہا ہے كہ بن لادن ، اسكے جانشين ايمن الظواہري اور طالبان كے رہنما ملا عمر ممكن ہے اس علاقہ ميں روپوش ہوں جہاں افغانستان كي حكومت كا مكمل كنٹرول نہيں ہے انھوں نے وضاحت كي كہ اس علاقہ ميں ان لوگوں كے وجود سے انكار نہيں كيا جاسكتا ہے انھوں نے كہا بن لادن پاكستان ميں نہيں ہے حال ہي ميں افغانستان اور پاكستان ايك دوسرے پر الزام لگاتے رہے ہيں كہ القاعدہ كے رہنما كو وہ تلاش كرنے ميں ناكام رہے ہيں  ياد رہے كہ 18 ہزر امريكي فوجي افغانستان ميں بن لادن كو پكڑنے كي كوشش ميں مصروف ہيں ليكن ابھي تك كامياب نہيں ہوسكے ہيں عراق ميں امريكي فوجيوں نے عراق كے معزول صدر صدام كو بہت جلد پكڑ ليا تھا اور امريكہ بن لادن كو پكڑنے ميں كيوں بري طرح ناكام ہے ؟ يہ سوال غور طلب ہے

News Code 203568

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 4 =