23 مئی، 2026، 2:55 PM

تل ابیب کے پاس لبنان جنگ کے لیے کوئی واضح اسٹریٹجی نہیں، صہیونی اخبار

تل ابیب کے پاس لبنان جنگ کے لیے کوئی واضح اسٹریٹجی نہیں، صہیونی اخبار

صیہونی اخبار نے اعتراف کیا ہے کہ صیہونی فوج میں مایوسی اور شکست کا احساس بڑھ رہا ہے، جبکہ افسران کو جنگ کے اصل اہداف کا علم ہی نہیں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی اخبار ہارٹز نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی قیادت کے پاس لبنان جنگ کے لیے کسی واضح حکمت عملی کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے صیہونی فوج کی صفوں میں بے چینی اور مایوسی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کے محاذ پر تعینات صیہونی فوجیوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ جنگ کے اصل اہداف سے مکمل طور پر لا علم ہیں۔ صیہونی فوجی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آیا ان کی سیاسی و عسکری قیادت کسی حتمی فوجی فتح کی تلاش میں ہے یا جنگ بندی چاہتی ہے۔ فوجی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ فی الحال ان کا کام محض لبنانی دیہاتوں میں گھروں اور رہائشی انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جو کسی بھی لحاظ سے کوئی اسٹریٹجک کامیابی نہیں ہے۔

اس دوران حزب اللہ کے خودکش ڈرونز صیہونی زمینی افواج کے لیے ایک سنگین اور دردناک خطرہ بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں صیہونی فوج کے جانی نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 'آئی 24 نیوز' نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل خود کو ایک ایسی طویل مدتی جنگ میں گھرا ہوا پا رہا ہے جس کا کوئی واضح انجام نظر نہیں آ رہا۔

صیہونی افسران اس بات پر بھی برہم ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بیروت اور وادیِ بقاع میں بمباری پر عائد کردہ پابندیوں نے فوج کے ہاتھ باندھ دیے ہیں۔ انہی پابندیوں کے باعث صیہونی فوج اپنی خفت مٹانے کے لیے صرف سرحدی دیہاتوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

اخبار یسرائیل ہیوم نے بھی سینئر افسران کے حوالے سے لکھا ہے کہ لبنانی سرزمین پر موجود رہنا بے فائدہ ہے کیونکہ موجودہ انداز جنگ میں فوج کسی بھی حقیقی کامیابی تک پہنچنے میں ناکام ہے۔

News ID 1939399

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha