مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک؛ سابق ایرانی صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کی شہادت کو آج دو سال مکمل ہوچکے ہیں۔ 19 مئی 2024ء کو مشرقی آذربائیجان کے علاقے ورزقان میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے نے ایران میں ایک بڑا قومی سانحہ جنم دیا تھا، جس میں آیت اللہ رئیسی اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے۔ ان کی دوسری برسی پر ایران بھر میں مختلف سطحوں پر تعزیتی تقاریب، اجتماعات اور یادگاری پروگرام منعقد کیے جارہے ہیں، جن میں ان کی سرکاری خدمات، انتظامی کردار، عوامی رابطہ مہمات اور عالمی فورمز پر ایران کی نمائندگی کو یاد کیا جاتا ہے۔
اسی مناسبت سے یہ خصوصی تحریر شائع کی جا رہی ہے، جس میں شہید آیت اللہ رئیسی کی زندگی، ذمہ داریاں، بیرونی دورے، اصلاحاتی اقدامات اور ان کے دور صدارت کے اہم واقعات کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
ولادت اور خاندانی پس منظر
شہید آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی دسمبر 1960ء میں مشہد کے محلہ نوغان میں ایک دینی اور روحانی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حجت الاسلام سید حاجی رئیس الساداتی اور والدہ سیدہ عصمت خداداد حسینی تھیں، اور دونوں طرف سے ان کا نسب ساداتِ حسینی سے ملتا تھا۔ وہ حضرت زید بن علی بن الحسینؑ کی اولاد میں شمار کیے جاتے تھے۔ آیت اللہ رئیسی نے صرف 5 سال کی عمر میں اپنے والد کو کھو دیا، جس کے بعد ان کی پرورش اور تربیت مزید صبر و محنت کے ماحول میں ہوئی۔
تعلیم و دینی تربیت
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشہد ہی میں حاصل کی، اور ساتھ ہی دینی علوم کی طرف بھی توجہ دی۔ 1975ء میں وہ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے قم منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے حوزہ علمیہ قم اور مدرسہ آیت اللہ بروجردی میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کی علمی و حوزوی تربیت نے بعد کے برسوں میں ان کی شخصیت، طرزِ فکر اور ذمہ داری کے احساس کو مزید مضبوط کیا۔
ازدواجی زندگی
آیت اللہ رئیسی کی شادی 23 سال کی عمر میں ہوئی۔ ان کا نکاح جمیلہ سادات علم الہدی سے ہوا، جو مشہد کے معروف عالم آیت اللہ علم الہدیٰ کی صاحبزادی تھیں۔ اس ازدواجی زندگی سے ان کی دو بیٹیاں ہیں۔ قریبی حلقوں کے مطابق وہ خاندانی زندگی میں نہایت سادہ مزاج اور ذمہ دار انسان تھے۔
عدلیہ میں ذمہ داریاں
آیت اللہ رئیسی نے 1989ء سے 1994ء تک تہران کے پراسیکیوٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد وہ 10 سال تک قومی ادارہ برائے معائنہ و احتساب کے سربراہ رہے۔ اس دور میں ادارے کی ساخت مضبوط کی گئی اور اسے نظامِ اسلامی کے اہم نگران اداروں میں نمایاں مقام حاصل ہوا۔ ان کی انتظامی کارکردگی اور سخت گیر نگرانی نے انہیں عدالتی و نظارتی حلقوں میں ایک مؤثر شخصیت بنا دیا۔
آستان قدس رضوی کی سرپرستی
مارچ 2016ء میں آیت اللہ رئیسی مشہد گئے، اور آیت اللہ واعظ طبسی کے انتقال کے بعد مارچ 2019ء تک تقریباً 3 سال کے لیے آستان قدس رضوی کے متولی رہے۔ اس دوران انہیں خادم الرضاؑ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ان کے دور میں آستان قدس رضوی کے انتظامی ڈھانچے میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئیں، جن کا مقصد محروم طبقات، زائرین اور روضہ رضوی کے مجاوروں کی بہتر خدمت تھا۔
عدلیہ کی سربراہی
مارچ 2019ء میں وہ دوبارہ محکمہ عدالت میں آئے اور اس ادارے کے سربراہ بنے۔ ان کے دور میں عوام سے متعلق مقدمات کے فوری اور مؤثر حل پر خاص توجہ دی گئی، بڑے بدعنوانی کے مقدمات کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئیں، اور عدالتی نظام میں اصلاحات کو ترجیح دی گئی۔ اسی عرصے میں عدالتی نظام میں تبدیلی اور بہتری کے لیے سندِ تحولِ قضائی کو حتمی شکل دی گئی، جبکہ عدلیہ کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ مؤثر اور منظم بنانے کا عمل بھی آگے بڑھایا گیا۔ ان اقدامات کو ان کے دور کی نمایاں پیش رفتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
صدارتی سفر
آیت اللہ رئیسی نے 2021ء میں اس وقت صدارتی انتخاب میں حصہ لیا جب انہیں یہ احساس ہوا کہ انتظامی سستی اور بے عملی ملک کو مایوسی کی طرف لے جا رہی ہے۔ صدر بننے کے بعد انہوں نے خود کو ایک عوامی اور فعال صدر کے طور پر پیش کیا۔ وہ بار بار ملک کے مختلف صوبوں کا دورہ کرتے رہے اور براہِ راست عوامی مسائل سننے پر زور دیتے رہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران انہوں نے ایران کے 19 مختلف علاقوں کا دورہ کیا، جبکہ 2024ء کے پہلے دو ماہ میں وہ سمنان، قم، مازندران اور مشرقی آذربائیجان بھی گئے۔
بیرون ملک دورے اور عالمی فورمز پر ایران کی بھرپور نمائندگی
آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کے دورِ صدارت میں ایران کی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی آئی، جس میں پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات اور ایشیا کی طرف نظر کو ترجیح دی گئی۔ آیت اللہ رئیسی کی خارجہ پالیسی محض چند ممالک تک محدود نہیں تھی، بلکہ انہوں نے اپنی تین سالہ مدت میں ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے درجنوں ممالک کا دورہ کر کے ایران کے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو نئی وسعت عطا کی۔ ان کی سفارتی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد مغربی پابندیوں کے اثر کو زائل کرنا اور دنیا کے مختلف خطوں کے ساتھ تزویراتی شراکت داری قائم کرنا تھا۔
ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے دورے
آیت اللہ رئیسی نے ایشیا میں چین اور روس کے ساتھ طویل مدتی اقتصادی و دفاعی معاہدوں کو حتمی شکل دی۔ ان کی کوششوں سے ایران شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل رکن بنا اور برکس جیسے عالمی معاشی بلاک میں شمولیت اختیار کی۔ جون 2023ء میں انہوں نے جنوبی امریکہ کے ممالک بشمول وینزویلا، نکاراگوا اور کیوبا کا تاریخی دورہ کیا، جہاں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا اور توانائی و تجارت کے شعبوں میں اہم یاداشتوں پر دستخط ہوئے۔ اسی طرح جولائی 2023ء میں انہوں نے افریقہ کے تین ممالک کینیا، یوگنڈا اور زمبابوے کا دورہ کیا، جو کہ گزشتہ 11 سالوں میں کسی بھی ایرانی صدر کا پہلا افریقی دورہ تھا۔ ان دوروں کا مقصد ایران کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنا اور افریقی ممالک کے ساتھ تکنیکی و سائنسی تعاون بڑھانا تھا۔
عالمی فورمز پر نمائندگی اور اسلام کا دفاع
آیت اللہ رئیسی نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں ایران کا مقدمہ نہایت دلیری اور دوٹوک انداز میں پیش کیا۔ ستمبر 2023ء میں اقوامِ متحدہ کے 78 ویں اجلاس کے دوران، انہوں نے مغربی ممالک میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعات کے خلاف احتجاجاً عالمی فورم پر قرآن مجید بلند کیا اور واضح کیا کہ قرآن کی توہین دراصل انسانیت اور الہامی اقدار کی توہین ہے۔ ان کے اس اقدام کو مسلم دنیا میں بے حد سراہا گیا۔
انہوں نے عالمی فورمز پر ہمیشہ فلسطین کے حق اور مظلوم اقوام کی حمایت میں آواز بلند کی۔ ان کے خطابات میں مغربی استعمار کی مخالفت اور ایک کثیر قطبی نظام کی ضرورت پر زور دیا جاتا تھا، جہاں کسی ایک طاقت کی اجارہ داری نہ ہو۔ شہید رئیسی کے دور میں ایران نے نہ صرف اپنی علاقائی تنہائی ختم کی بلکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں امن و امان کے نئے دور کا آغاز بھی کیا۔
شہید آیت اللہ رئیسی نے اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ ایران صرف مغرب کا محتاج نہیں ہے، بلکہ وہ ایشیا سے افریقہ تک پھیلے ہوئے ایک وسیع اتحاد کا حصہ بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے عالمی پلیٹ فارمز پر ایک مدبر اسلامی رہنما کے طور پر اپنی پہچان بنائی اور ایرانی عوام کے وقار کا ہمیشہ تحفظ کیا۔
سانحہ اور شہادت
اتوار 19 مئی 2024ء کی شام آیت اللہ رئیسی مشرقی آذربائیجان کے شمال میں قیز قلعهسی ڈیم کے افتتاحی پروگرام سے واپس تبریز جا رہے تھے کہ ورزقان کے علاقے میں ان کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس حادثے میں وہ اپنے تمام ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے۔ ان کی شہادت سے ایران میں ایک بڑا قومی صدمہ پیدا ہوا، کیونکہ وہ ایک ایسے رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے جو خود کو عوام کی خدمت کے لیے وقف کیے ہوئے تھے۔
آپ کا تبصرہ