مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراقی وزارت داخلہ کے ڈائریکٹر اطلاعات مقداد میری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عراق میں کسی دوسرے ملک کے فوجی کیمپ یا اڈے کی موجودگی کی خبروں کی تردید کرتے ہیں اور جو کچھ ہوا وہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران 48 گھنٹوں پر مشتمل ایک کارروائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ آپریشنز کمانڈ نے بھی اس معاملے کی تصدیق کی ہے اور ایسے شواہد اور تصاویر موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ نجف اور الانبار کے صحرائی علاقوں میں کوئی فوجی اڈہ موجود نہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ اتوار نیویارک ٹائمز نے عراقی حکام کے حوالے سے دعوی کیا تھا کہ عراق کے مغربی صحرا میں اسرائیل کا دوسرا خفیہ فوجی اڈہ دریافت کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ دوسرا خفیہ اسرائیلی اڈہ ہے جس کا انکشاف ہوا ہے اور اسرائیلی فوج نے ان میں سے ایک اڈے کی تعمیر اور تیاری کا عمل 2024 کے آخر میں شروع کیا تھا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ان اڈوں میں سے کم از کم ایک کو اسرائیلی فضائیہ فضائی معاونت اور جنگی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔
رپورٹ میں مزید دعوی کیا گیا کہ امریکا نے گزشتہ سال کی مختصر جنگ اور حالیہ کشیدگی کے دوران عراق کو اپنے ریڈار بند کرنے پر مجبور کیا تاکہ امریکی طیاروں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے، جس کے باعث بغداد دشمنانہ سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے مزید امریکی افواج پر انحصار کرنے لگا۔
اخبار نے عراقی فوجی کمانڈروں کے حوالے سے لکھا کہ عراقی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبدالامیر یاراللہ نے امریکی فوجی حکام سے نجی ملاقاتوں میں رابطہ کیا، جہاں امریکی حکام نے بتایا کہ یہ افواج ان کی نہیں ہیں، جس کے بعد عراقی حکام کو یقین ہوا کہ یہ اسرائیلی فورسز ہیں۔
رپورٹ میں کربلا آپریشنز کمانڈ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا کہ شہید عواد الشمری نے غیرملکی فورسز کو دیکھنے کے بعد مقامی حکام سے رابطہ کیا تھا، تاہم کچھ ہی دیر بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ دو روز کی تلاش کے بعد ان کی لاش ملی۔
رپورٹ کے مطابق دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم ایک خفیہ اڈے کے بارے میں واشنگٹن کو پہلے سے علم تھا، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکا عراق میں اسرائیلی اڈوں کی موجودگی سے آگاہ تھا۔
نیویارک ٹائمز نے مزید لکھا کہ عراق کی سیکیورٹی میں امریکا کے کردار نے اسرائیل کو یہ اعتماد دیا کہ وہ عراق میں خفیہ طور پر سرگرمیاں جاری رکھ سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ