مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارونوت نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ برطانیہ میں فلسطین کے حامی عوامی اور سیاسی حلقوں کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس پر اسرائیلی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی بھاری شکست اور وزیراعظم کی مقبولیت میں نمایاں کمی کے بعد برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت اس وقت شدید سیاسی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔
اخبار کے مطابق گزشتہ چند روز میں لیبر پارٹی کے درجنوں ارکان پارلیمنٹ نے اسٹارمر سے استعفی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بعض میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ وہ مستعفی ہونے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں، اگرچہ انہوں نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی۔
یدیعوت آحارونوت نے لکھا کہ اگرچہ اسٹارمر نے حالیہ مہینوں میں اسرائیل کو اسلحے کی فروخت پر بعض پابندیاں عائد کیں اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے معاملے پر تل ابیب کی ناراضی مول لی، تاہم انہیں اب بھی لیبر پارٹی کے بائیں بازو کے مقابلے میں نسبتا معتدل سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حلقوں کو خدشہ ہے کہ اگر اسٹارمر کی جگہ کوئی نیا رہنما آتا ہے تو وہ اسرائیل کے خلاف زیادہ سخت پالیسی اختیار کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب برطانیہ میں عوامی دباؤ اور فلسطین نواز تحریکیں مسلسل مضبوط ہو رہی ہیں۔
آپ کا تبصرہ