مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ورچوئل کتاب میلے کے افتتاح کے موقع پر اپنے پیغام میں کتاب کو انسانی تاریخ اور تہذیب کی زندہ یادداشت قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کتاب ایسا قیمتی ورثہ ہے جس کے ذریعے قومیں سوچتی ہیں، مکالمہ کرتی ہیں، سیکھتی ہیں اور اپنے مستقبل کا راستہ متعین کرتی ہیں۔
ایرانی صدر نے بین الاقوامی کتاب میلے کے انعقاد کو علم، شعور اور فکری تبادلے کی قدر دانی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی بھی معاشرے میں فکری بیداری اور ثقافتی پختگی کا واضح اظہار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ وہی معاشرے بحرانوں، جنگوں، انتہا پسندی اور جہالت کے اندھیروں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے جنہوں نے کتاب، علم اور عقل و دانش کو اپنی اجتماعی زندگی کا محور بنایا۔
پزشکیان نے کہا کہ کتاب صرف الفاظ اور صفحات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی تجربات، امیدوں، تکالیف اور نسلوں کے درمیان باہمی فہم کا پل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ علم و صلاحیت کی بنیاد مطالعہ، سیکھنے اور غور و فکر پر قائم ہے اور کتاب آج بھی انسان کی ترقی اور بلندی کا سب سے معتبر ذریعہ ہے۔
ایرانی صدر کے مطابق موجودہ دنیا میں جہاں تشدد، انتہا پسندی اور طاقت کی سیاست قوموں کے امن کو خطرے میں ڈال رہی ہے، وہاں کتاب اور مطالعے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے تاکہ انسانوں میں ہمدردی، بقائے باہمی اور باہمی احترام کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار امن ہتھیاروں، طاقت یا بے گناہوں کے خون بہانے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ علم، انصاف، اخلاق اور قوموں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ کے ذریعے قائم ہوتا ہے اور کتاب اس انسانی مفاہمت کی سب سے اہم زبان ہے۔
پیغام کے اختتام پر مسعود پزشکیان نے مصنفین، محققین، مترجمین، ناشرین اور ثقافتی شعبے سے وابستہ افراد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کتاب میلے کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ کتاب لوگوں کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنے گی۔
آپ کا تبصرہ