مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تائیوانی نائب وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ تائیوان اپنی سلامتی کے معاملے میں کسی غفلت کا متحمل نہیں ہوسکتا اور دفاعی تیاری ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے تائیوان کو اسلحے کی فراہمی خطے میں طاقت کے توازن اور استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ شب اعلان کیا کہ وہ تائیوان کو 12 ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت معطل کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے چین کے حوالے سے بالواسطہ انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلحے کی فروخت کا معاملہ چین کے طرز عمل پر منحصر ہوگا اور فی الحال اسے روک کر رکھا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ