مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برکس کے دوسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا اس وقت گہرے سیاسی، معاشی اور سلامتی کے بحران سے گزر رہی ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم کیا گیا عالمی نظام اب اکیسویں صدی کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی طاقتوں اور روایتی عالمی اداروں کے درمیان بڑھتا ہوا فرق عالمی استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے اور اس کے باعث طاقت، دولت اور ترقی کے مواقع کی غیر منصفانہ تقسیم میں اضافہ ہوا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ بعض بین الاقوامی اداروں میں حقیقی کثیرالجہتی کے بجائے یکطرفہ پالیسیوں کو بین الاقوامی قوانین کے پردے میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ بعض طاقتور ممالک قوانین، پابندیوں اور سیاسی دباؤ کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس سے عالمی حکمرانی کا نظام بحران کا شکار ہوگیا ہے۔
انہوں نے یکطرفہ پابندیوں کو عالمی عدم استحکام کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پابندیاں اب سفارتی آلہ نہیں رہیں بلکہ ترقی پذیر اور آزاد ممالک کے خلاف معاشی جنگ کے ہتھیار میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ ان پابندیوں کی وجہ سے نہ صرف حکومتیں بلکہ عام شہریوں کے بنیادی حقوق، صحت، خوراک اور ترقی بھی متاثر ہورہی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران برکس کے دائرے میں آزاد مالیاتی نظام اور متبادل اقتصادی تعاون کو ناگزیر سمجھتا ہے تاکہ ممالک بیرونی دباؤ اور معاشی انحصار سے محفوظ رہ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا دوبارہ جنگوں، تشدد اور جارحانہ پالیسیوں کے دور میں داخل ہورہی ہے جبکہ امن، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے اصول کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ بعض طاقتور ممالک بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے نعروں کو جنگ اور مداخلت کے جواز کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
عراقچی نے اقوام متحدہ اور بالخصوص سلامتی کونسل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے طاقتور ممالک کے دباؤ کے باعث مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ سلامتی کونسل کی اصلاح اب ایک انتخاب نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے مستقبل کے لیے ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی نظام میں ایسی اصلاحات ہونی چاہییں جن کے ذریعے طاقت کی منصفانہ تقسیم، قومی خودمختاری کا احترام، تمام انسانوں کے حقوق کا تحفظ اور ثقافتی و سیاسی تنوع کو تسلیم کیا جائے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے خلاف حالیہ حملوں کے دوران خواتین، بچوں، اسکولوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے میناب کے ایک اسکول پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں متعدد طلبا شہید ہوئے۔ یہ بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں ریفائنریوں، پیٹروکیمیکل مراکز، پلوں، ریلوے، اسٹیڈیموں، توانائی کی تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملے دراصل عام شہری زندگی کو متاثر کرنے کی کوشش ہیں۔
عراقچی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں اور بنیادی تنصیبات پر حملوں کے خلاف واضح اور ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کرے اور دوہرے معیار ترک کرتے ہوئے تمام انسانوں کی جان کو یکساں اہمیت دے۔
انہوں نے کہا کہ برکس دنیا کی بڑی آبادی اور معیشت کی نمائندگی کرتا ہے اور یہ اتحاد حقیقی کثیرالجہتی نظام، اقتصادی توازن اور آزاد تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ برکس کو کسی تصادم کے بلاک کے طور پر نہیں بلکہ عالمی توازن، مشترکہ مفادات اور پائیدار ترقی کے پلیٹ فارم کے طور پر آگے بڑھنا چاہیے۔
عراقچی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا صرف بحرانوں کے عارضی انتظام کے بجائے عالمی نظام کی بنیادی اصلاحات کی طرف بڑھے تاکہ امن، انصاف اور مشترکہ عالمی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ