29 مارچ، 2026، 3:36 PM

حزب اللہ کے پے در پے حملے؛ صہیونی فوجی اڈے نشانہ، ہزاروں آبادکار فرار

حزب اللہ کے پے در پے حملے؛ صہیونی فوجی اڈے نشانہ، ہزاروں آبادکار فرار

لبنانی مزاحمت نے میزائل اور ڈرون حملوں میں مرکاوا ٹینک تباہ اور حیفا کے قریب دو اہم فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، حملوں کی وجہ سے ہزاروں صہیونی آبادکار فرار ہورہے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیلی فوجی اہداف کے خلاف پے در پے میزائل اور ڈرون حملے کئے ہیں جبکہ تازہ رپورٹس کے مطابق ہزاروں صہیونی آبادکار مقبوضہ علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حزب اللہ کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج کے دو اہم اڈوں کو نشانہ بنایا جو لبنان اور مقبوضہ فلسطین کی سرحد سے درجنوں کلومیٹر دور واقع ہیں۔

حزب اللہ کی جانب سے جاری متعدد بیانات میں کہا گیا ہے کہ کم از کم 39 صہیونی مخالف کارروائیاں انجام دی گئیں۔ ان حملوں کے دوران حزب اللہ نے خودکش ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے اسرائیلی فوج کے کئی مرکاوا ٹینکوں کو تباہ کیا جبکہ دو فوجی اڈوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق نشانہ بنائے گئے اڈوں میں عین شیمر میزائل دفاعی اڈہ شامل ہے جو لبنان کی سرحد سے تقریباً 75 کلومیٹر دور واقع ہے، جبکہ دوسرا اڈہ رگویم ہے جہاں اسرائیلی فوج کی مشہور گولانی بریگیڈ کے تربیتی کیمپ موجود ہیں۔ یہ اڈہ مقبوضہ حیفہ کے جنوب مشرق میں سرحد سے تقریبا 65 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ادھر ایک اور واقعے میں ایک امریکی ایندھن بردار طیارہ جو بن گوریون ایئرپورٹ سے پرواز کر کے اردن کی فضائی حدود میں گردش کر رہا تھا، ہنگامی مدد کی درخواست کے بعد دوبارہ مقبوضہ علاقوں کی جانب واپس آ گیا اور وہیں لینڈ کر گیا۔ اس واقعے کی وجوہات کے بارے میں ابھی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

دوسری جانب عبرانی اخبار یدیعوت آحارانوت نے ایران کے حالیہ میزائل حملوں کے بعد مقبوضہ علاقوں میں ہونے والی تباہی کا اعتراف کیا ہے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک ایرانی میزائل کے گرنے سے ہونے والے دھماکے کے بعد اردگرد 150 میٹر تک کے علاقے میں عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ 100 سے زائد گاڑیاں بھی تباہ یا شدید متاثر ہوئیں۔

دراین اثناء اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل کان نے رپورٹ کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال اور مسلسل حملوں کے خوف نے بڑی تعداد میں اسرائیلی شہریوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان افراد نے نسبتا محفوظ ماحول اور سکون کی تلاش میں مصر کے سینا خطے کا رخ کیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں کشیدگی اور حملوں میں اضافے کے بعد بہت سے آبادکار جنگ کے ممکنہ اثرات سے بچنے کے لیے مقبوضہ علاقوں سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور عدم استحکام کے باعث شہری آبادی میں خوف و ہراس بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں بعض لوگ عارضی طور پر دوسرے علاقوں میں پناہ لینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

News ID 1938681

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha