مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صوبہ الانبار کے ایک سیکیورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ حشد الشعبی کے فوجی ساز و سامان کو شام اور مغربی الانبار کے درمیان سرحدی پٹی میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ اقدام شام کے اندرونی علاقوں سے دہشت گرد عناصر کی مغربی عراق میں دراندازی کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ تمام ممکنہ سیکیورٹی خلا اور کمزوریوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عراقی ذرائع نے مزید بتایا کہ دہشت گرد عناصر عراق اور شام کی مشترکہ سرحد کے قریب علاقوں میں موجود ہیں اور شام کے اندر مسلح جھڑپوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اس سے قبل عراق کے وزیر داخلہ عبدالامیر الشمری نے بھی اس بات پر زور دیا تھا کہ عراق روزانہ کی بنیاد پر شام کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ایسے صورتحال کی توقع تین سال قبل ہی کر لی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی سرحدی دفاعی پوزیشنز کو مضبوط کیا ہے، بالخصوص وہ مقامات جو شام کے ساتھ مشترکہ سرحد کے قریب واقع ہیں۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں 620 کلومیٹر طویل خندق بھی کھودی جا چکی ہے۔
عراقی وزیر داخلہ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب شام میں جولانی حکومت کے عناصر اور قسد فورسز کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں ہزاروں داعشی عناصر جیلوں سے فرار ہو گئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ