24 دسمبر، 2025، 4:35 PM

جب تک غاصبانہ قبضہ ہے، ہمارا اسلحہ بھی رہے گا، حماس 

جب تک غاصبانہ قبضہ ہے، ہمارا اسلحہ بھی رہے گا، حماس 

حماس کے سینیئر رہنما اسامہ حمدان نے واضح کیا ہے کہ مزاحمتی قوتوں سے اسلحہ واپس لینے کی بات کرنا دراصل امریکہ اور اسرائیل کا ایجنڈا ہے۔ جب تک فلسطین کی زمین پر غاصبانہ قبضہ برقرار ہے، یہ اسلحہ مزاحمت کے ہاتھوں میں رہے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزاحمت کا اسلحہ حوالے کرنے سے متعلق کسی بھی قسم کی بحث کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ مزاحمت کا اسلحہ ایک قانونی اسلحہ ہے اور جب تک غاصبانہ قبضہ جاری ہے، یہ اسلحہ بھی موجود رہے گا۔

انہوں نے خطے کی صورتحال میں امریکہ کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے پر اپنی بالادستی کا منصوبہ رکھتا ہے اور اس مقصد کے لیے صہیونی ریاست کو مرکزی ستون کے طور پر دیکھتا ہے۔

حماس کے عہدیدار نے مزید کہا کہ بنیامین نتن یاہو بخوبی جانتے ہیں کہ امریکی منصوبے کی اصل بنیاد پورے خطے کو اس طرح غیر مسلح کرنا ہے کہ اسرائیل کے سوا کسی کے پاس اسلحہ باقی نہ رہے۔ یہ معاملہ براہِ راست اس مقصد کے لیے ہے جسے گریٹر اسرائیل کہا جاتا ہے۔

حمدان نے اس طرزِ عمل کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کا مطلب اسلامی امت کی زمینوں کے ایک بڑے حصے کو نگلنے کے لیے دروازے کھولنا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صہیونی ریاست خطے میں اسلحے کی واحد مالک بن جائے گی۔

News ID 1937274

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha