امریکہ کی طالبان کو دھمکی/ طالبان سے عورتوں سے متعلق فیصلے واپس لینے کا مطالبہ

امریکہ نے افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کوخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طالبان نے خواتین پر غیر ضروری گھر سے باہر نکلنے، برقع پہننے کی شرط اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق اپنے سخت فیصلوں کو واپس نہیں لیا، تو انھیں امریکہ کے سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑےگا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کوخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طالبان نے خواتین پر غیر ضروری گھر سے باہر نکلنے، برقع پہننے کی شرط اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق اپنے سخت فیصلوں کو واپس نہیں لیا، تو انھیں امریکہ کے سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑےگا۔ 

اطلاعات کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ طالبان سے خواتین کے عوامی مقامات پر برقع پہننے کو لازمی قرار دینے کے حکم کو واپس لینے کے لیے براہ راست بات کی ہے۔

ترجمان نیڈ پرائس نے مزید کہا کہ اگرخواتین سے متعلق سخت فیصلوں کو واپس نہیں لیا جاتا تو امریکہ طالبان پر دباؤ بڑھانے کے لیے سخت اقدامات بھی اٹھا سکتا ہے۔ ہمارے پاس بہت سے ایسے ٹولز ہیں جنھیں استعمال کر کے طالبان پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان اقدامات اور ٹولز سے متعلق وضاحت نہیں کی تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان میں امدادی کاموں اور فنڈز کی فراہمی کو مشروط کرسکتا ہے۔

ترجمان امریکی وزارت خارجہ کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب امیرِ طالبان ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے ہفتے کے روز خواتین کو عوامی مقامات پر چہرہ اور سر سے پاؤں تک ڈھانپنے والا برقع پہننے کا حکم دیا ہے۔ 

اس حکم سے ایک ماہ قبل ہی امیرِ طالبان کی مداخلت پر ہی لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولوں کو کھلنے کے ایک ہی گھنٹے بعد دوبارہ بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا جب کہ تاحال خواتین کو ملازمتوں پر واپس سے روک رکھا ہے۔

News Code 1910801

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 2 =