اشرافیانہ زندگی بسر کرنے والے افراد انقلاب اسلامی کے اہداف اور خطوط پر قائم نہیں رہ سکتے

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آذربائیجان کے عوام سے 29 بہمن سن 1356 ہجری شمسی میں قیام کی مناسبت سے براہ راست خطاب میں فرمایا: جو لوگ اشرافیانہ زندگی بسر کرتے ہیں اور دشمن کے سامنے تسلیم ہونے کی بات کرتے ہیں ، یہ لوگ انقلاب اسلامی کے اہداف اور خطوط پر قائم نہیں رہ سکتے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ ےکے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آذربائیجان کے عوام سے 29 بہمن سن 1356 ہجری شمسی میں قیام کی مناسبت سے ٹی وی چینلوں پربراہ راست  خطاب میں فرمایا: جو لوگ اشرافیانہ زندگی بسر کرتے ہیں اور دشمن کے سامنے تسلیم ہونے کی بات کرتے ہیں ، یہ لوگ انقلاب اسلامی کے اہداف اور خطوط پر قائم نہیں رہ سکتے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے 29 بہمن سن 1356 ہجری شمسی میں تبریز کے عوام کے قیام کو انقلاب اسلامی کی کامیابی میں اہم عنصر قراردیتے ہوئےفرمایا: انقلاب اسلامی گذشتہ 4 دہائیوں سے مختلف میدانوں میں اپنے اعلی اہداف اور مقاصد کے حصول کی جانب بڑھ رہا ہے۔ گذشتہ 40 برسوں میں دشمنوں کی اقتصادی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود ایران نے مختلف شعبوں میں خاطر خواہ ترقی حاصل کی ہے اور آج ترقی اور پیشرفت کے لحاظ سے  ایران دنیا کے پہلے دس ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ ایرانی عوام نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کی سالگرہ یعنی  22 بہمن کو کورونا وائرس کے باوجود ریلیوں میں بھر پور شرکت کی جو حیرت انگیز تھی ۔ ایرانی عوام نے اقتصادی مشکلات کے باوجود  22 بہمن کی ریلیوں میں شرکت کرکے دشمن کی تمام گھناؤنی سازشوں اور گمراہ پروپیگنڈوں کو ناکام بنادیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تبریز کے عوام کی تحریک کو انقلاب اسلامی کے لئۓ مثمر ثمر قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کسی پارٹی یا سیاسی جماعت کی کوشش کے نتیجے میں نہیں ہوئی بلکہ اس انقلاب کی کامیابی میں ایرانی عوام کی حمایت اور پشتپناہی شامل ہے اور انقلاب اسلامی آج بھی ایرانی عوام کی حمایت اور پشتپناہی کی بدولت اپنے اعلی اہداف کی سمت گامزن ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پر امن ایٹمی پروگرام کو ملک کی اہم اور اساسی ضرورت قراردیتے ہوئے کہا کہ دشمن بھی جانتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں اور نہ ہی ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے وہ ایٹمی ہتھیاروں کو بہانہ بنا کر اور ظالمانہ پابندیاں عائد کرکے ایران کی سائنسی اور علمی پیشرفت کو روکنا چاہتے ہیں۔ ایران اپنے قومی اور ملکی مفادات کے سلسلے میں کسی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرےگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: انقلاب اسلامی ایران کے اہداف میں ایک اہم ہدف جامع اور وسیع اسلامی معاشرے کی تشکیل بھی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گذشتہ 43 برسوں میں ایران کی ترقی اور پیشرفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج دوست اور دشمن ، ایران کی ترقی و پیشرفت کے معترف ہیں البتہ بعض شعبوں میں جیسا کام ہونا چاہیے تھا ویسا نہیں ہوا اور بعض حکام کی غفلت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب کے خلاف دشمن کی عداوت اور دشمنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمن کی عداوت سے ثابت ہوتا ہے کہ انقلاب اسلامی  زندہ اور پائندہ ہے اور اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اشرافیہ زندگی بسر کرنے والے افراد اور امریکہ اور سامراجی و استکباری طاقتوں کے سامنے تسلیم ہونے کی بات کرنے والے افراد در حقیقت انقلاب اسلامی کے اہداف اور خطوط پر قائم نہیں رہ سکتے کیونکہ انقلاب کا نعرہ مستضعفین اور غریبوں کی حمایت کا نعرہ ہے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں ایرانی عوام کی استقامت کے نتائج اور اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: علاقائي سطح پر اسلامی مزاحمت برق رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور آج اسلامی مزاحمتی تنظیموں نے عالمی سامراجی طاقتوں اور امریکہ پر لرزہ طاری کررکھا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے جوانوں کو سفارش کرتے ہوئے فرمایا: دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے سلسلے میں اپنا اہم کردار ادا کریں اور اللہ تعالی کے ساتھ رابطہ مضبوط اور مستحکم کرنے کی کوشش کریں کیونکہ دشمن جوانوں کو اللہ تعالی سے دور کرکے چوٹ پہنچانے کی کوشش کررہا ہے لہذا ہمارے جوانوں کو زیادہ سے زیادہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرکے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل صوبہ آذربائیجان میں رہبر معظم کے نمائندے اور تبریز کے امام جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین آل ہاشم نے صوبہ کے بارے میں مختصر رپورٹ پیش کی۔

News Code 1909888

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 12 =