مغربی ممالک کا انسانی حقوق کے بارے میں دہرا معیار/ سنکیانگ پر تنقید اور کشمیر پر خاموشی

پاکستان کے وزير اعظم عمران خان نے مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے بارے میں دہرے معیار اور دوگانہ پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ممالک چین کے صوبہ سنکیانگ کے بارے میں تو بات کرتے ہیں لیکن کشمیر کے بارے میں وہ بالکل خاموش ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈیلی پاکستان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے وزير اعظم عمران خان نے مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے بارے میں دہرے معیار اور دوگانہ پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ممالک چین کے صوبہ سنکیانگ کے بارے میں تو بات کرتے ہیں لیکن کشمیر کے بارے میں وہ بالکل خاموش ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم نے چینی ذرائع ابلاغ کے ساتھ گفتکو کرتے کہا کہ امریکہ اور مغربی ممالک سنکیانگ کی توبات کرتےہیں لیکن کشمیرمیں ظلم کاتذکرہ تک نہیں کیاجاتا،بھارت نے کشمیرکوایک کھلی جیل بنادیاہے، بھارت کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ مغربی ممالک کی انسانی حقوق کے بارے میں پالیسی دہرے معیار پر مبنی ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان کو بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے ، اور اس سے بڑھ کر یہ اگر افغانستان میں بحران پیداہوتاہے تو وہی حالات پیدا ہو جائیں گے جو بیس سال پہلے تھے جب افغانستان میں امریکہ آیا تھا ۔

اس لیے عالمی برادری کو افغانستان کے  40 ملین لوگوں کی زندگی کے بارے میں سوچنا چاہیے ، ، افغانستان کو اس وقت بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے ، ان کی جتنی جلد ی ہو امداد کرنی چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ چین نے 35 سے 40 سال کے دوران 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ، میرا بھی بنیادی مقصد لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے ، چین نے اپنی معیشت پر توجہ دی ، ہماری توجہ معیشت کی ترقی پر ہے ، چین نے اپنی معیشت کو ترقی دے کر لوگوں کو غربت سے نکالا۔میں معاشی ترقی میں چین کی تقلید کرنا چاہتا ہوں۔ چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ چین پاکستان کا قابل اعتماد دوست ہے۔

News Code 1909663

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 2 =