ایران نے شہید سردارقاسم سلیمانی کے قتل میں ملوث 51 امریکی مجرموں پر پابندیاں عائد کردیں

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں خطے میں امریکہ کے دہشت گردانہ اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے شہید میجر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں ملوث 51 امریکی مجرموں پر پابندیاں عائد کردی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں خطے میں امریکہ کی دہشت گردانہ کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے اقدامات کا مقابلہ کرنے کے قانون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے شہید میجر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں ملوث 51 امریکی مجرموں پر پابندیاں عائد کردی ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے والے قانون کی شق 4 اور 5 کے تحت امریکہ کے سابق دہشت گرد صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکہ کے سابق وزیر خارجہ مائیک پمپئو، امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن، امریکہ کے سابق وزیر دفاع مارک اسپر، سی آئی کے سابق سربراہ جینا ہاسیل، امریکی وزارت دفاع کے سابق سرپرست کریسٹوفر میلر ، سابق وزیر خزانہ اسٹون منوچین، بغداد میں امریکہ کے سفیر مٹیو ٹالر ، بغداد میں امریکی سفارتخانہ کے سابق معاون اسٹیو فاکین اور عراق کے شہر اربیل میں سابق امریکی قونصلر راب ولر کو مؤرخہ 30 دیماہ اور 2 آبان 1399 ہجری شمسی میں ایرانی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ۔ اب ان افراد کو شہید میجر جنرل سلیمانی اور ان کے ساتھی شہیدوں کے قتل میں ملوث ہونے ، انسانی حقوق کے نقض کرنے اور دہشت گردی کے فروغ کے جرم  پابندیوں کا سامنا کرنا پڑےگا ۔

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق امریکی حکومت دہشت گردی کی آشکارا حمایت اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کا ارتکاب کررہی ہے۔ ایرانی حکومت نے امریکہ کے دہشت گرد حکام کے مجرمانہ اقدامات کے پیش نظر ان پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے کہا تھا کہ اگر بین الاقوامی عدالت نے امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ اور سابق وزير خارجہ پمپئو کو سزا دی تو بہتر ورنہ امت مسلمہ کے غیور جوانوں انھیں کیفر کردار تک پہنچا دیں گے۔

News Code 1909436

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha