طالبان کا پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر تلخ واقعات کو مذاکرات سے حل کرنے پر زور

افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ سے متعلق چند تلخ واقعات ہوئے ہیں جسے دونوں ممالک کے حکام کو مل کر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ سے متعلق چند تلخ واقعات ہوئے ہیں جسے دونوں ممالک کے حکام کو مل کر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیورنڈ لائن پر باڑ ہٹانے کے معاملے پر پیدا ہونے والی صورت حال پر معاملہ سفارتی طریقے سے حل کرلیں گے۔  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے لکھا کہ حال ہی میں پاک افغان سرحد پر باڑ سے متعلق چند تلخ واقعات ہوئے ہیں جسے دونوں ممالک کے حکام کو مل کر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ افغان وزارت خارجہ کے عبوری ترجمان نے مزید کہا کہ ہم اچھے ہمسائیوں کی طرح تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور اس مسئلے کو بھی سفارت کاری سے حل کرلیں گے۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے کسی پیشرفت کے بارے میں نہیں بتایا اور اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے پر کوئی رابطہ بھی ہوا ہے یا نہیں۔ اس معاملے کا آغاز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز سے ہوا تھا جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان اہلکار ڈیورنڈ لائن پر پاکستان کی جانب سے لگائی گئی سرحدی باڑ کو ہٹا رہے ہیں۔

ویڈیوز میں اہلکاروں کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے ہماری سرحدوں پر باڑ لگائی ہے۔بعد ازاں افغان وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کے پاس سرحد پر باڑ لگانے اور تقسیم

News Code 1909403

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 5 =