ایران کی افغانستان میں امن و صلح برقرار کرنے اورافغان عوام کی ترقی و خوشحالی پرتاکید

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے افغانستان کے امور میں خصوصی نمائندے حسن کاظمی قمی کابل کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے طالبان رہنماؤں سے ملاقات میں افغانستان میں امن و صلح برقرار کرنے اوردہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی پر تاکید کی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرسید ابراہیم رئیسی  کے افغانستان کے امور میں خصوصی نمائندے حسن کاظمی قمی کابل کے تین روزہ دورے پر ہیں جہاں انھوں نے طالبان رہنماؤں سے ملاقات میں افغانستان میں امن و صلح برقرار کرنے اوردہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی پر تاکید کی ہے۔ کاظمی قمی نے کہا کہ افغانستان میں بعض دہشت گرد گروہ امریکہ کی نیابت میں جنگ لڑ رہے ہیں اور افغانستان میں پائدار امن و صلح کے قیامم يں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کاظمی قمی نے کہا کہ ایران افغانستان میں پائدار امن و صلح کے قیام اور افغانستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کوشاں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مشکلات میں افغان عوام کی حمایت اور مدد کی ہے اور موجودہ شرائط میں بھی ایران افغان عوام کو تنہا نہیں چھوڑےگا۔

کاظمی قمی نے کہا کہ افغانستان پر 40 سال سے سامراجی طاقتوں کا قبضہ رہا ہے اور حالیہ 20 برسوں میں امریکہ نے افغانستان میں وسیع پیمانے پر تباہی اور بربادی مچائی ، لیکن افغان عوام نے استقامت اور پائداری کے ساتھ امریکہ کو شکست دیکر افغانستان سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے نکل گیا ہے لیکن اس کی طرف سے افغانستان میں نیابتی جنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ افغانستان میں پائدار امن و صلح کے قیام کے لئے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے اورملک سے  دہشت گردی کے خاتمہ پر طالبان رہنماؤں کو اپنی توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

کاظمی قمی افغانستان کے تین روزہ دورے کے دوران افغانستان میں طالبان کابینہ کے عبوری سربراہ ملا حسن آحوند ، کابینہ کے نائب سربراہ ملا عبدالغنی برادر اور طالبان کے عبوری وزير خارجہ ملا خان متقی کے ساتھ دو طرفہ تعلقات، اقتصادی اور تجارتی امور نیز افغان عوام کو مدد بہم پہنچآنے کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

News Code 1908857

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 2 =