ویانا مذاکرات کا مقصد ایران کے خلاف غیر قانونی اور ظالمانہ  پابندیوں کا خاتمہ ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزير خارجہ نے کہا ہے کہ ویانا میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد ایران کے خلاف غیر قانونی پابندیوں کا خاتمہ ہے اور ان مذاکرات کا ایران کے دفاعی اور میزائل پروگرام سے کوئی تعلق نہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزير خارجہ علی باقری کنی نے گارڈین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ویانا میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد ایران کے خلاف غیر قانونی پابندیوں کا خاتمہ ہے اور ان مذاکرات کا  ایران کے دفاعی اورمیزائل پروگرام سے کوئی تعلق نہیں۔ انھوں نے کہا کہ  دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے سکیورٹی اور دفاعی  پروگرامز کے بارے میں مذاکرات نہیں کرتا اور ایران بھی اپنی سلامتی اور دفاعی امور کے متعلق پروگرامز کے بارے میں کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرےگا۔  انھوں نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں جو وعدے کئے گئے تھے مغربی ممالک نے ان پر عمل نہیں کیا لہذا ویانا مذاکرات کا اصلی مقصد مشترکہ ایٹمی معاہدے میں کئے گئے وعدوں پر عمل ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے میں ایران کے خلاف ظالمانہ اور غیر قانونی پابندیوں کو ختم کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا اس پر امریکہ اور تین یورپی ممالک نے عمل نہیں کیا اور ایران کے خلاف پابندیاں بدستور باقی ہیں۔ باقری کنی نے کہا کہ ایران اپنے سکیورٹی اور دفاعی امور کے بارے میں کسی سےمذاکرات نہیں کرےگا، ایران کا ایٹمی پروگرام بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہے اور جاری رہےگا۔

News Code 1908810

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 1 =