سعودی عرب کا ایران کے ساتھ مذاکرات کا مقصد یمن ميں اپنی مشکلات کو حل کرنا ہے

علاقائی امور کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا ایران کے ساتھ مذاکرات کا مقصد یمن ميں اپنی مشکلات کو حل کرنا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں علاقائی امور کے ماہر سعد اللہ زارعی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا ایران کے ساتھ مذاکرات کا مقصد یمن ميں اپنی مشکلات کو حل کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عراق کے وزیر اعظم کی وساطت سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان دارالحکومت بغداد میں مذاکرات کے 4 دور ہوئے ہیں کیونکہ یہ مذاکرات تیسرے فریق یعنی یمن کے بارے میں ہیں لہذا ان میں کوئي خاص پشرفت حاصل نہیں ہوئی ہے۔

سعد اللہ زارعی نے کہا کہ سعودی عرب نے بلا وجہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کئے اور حالیہ برسوں میں بھی سعودی عرب کا رویہ ایران کے بارے میں جارحانہ رہا ہے ۔ سعودی عرب ایران کے ذریعہ یمنی فورسز اور قبائل کو اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتا ہے جبکہ اس سلسلے میں یمنی فورسز اور قبائل مستقل ہیں اور وہ اپنے ملک کا دفاع کررہے ہیں۔

علاقائي امور کے ماہر سعد اللہ زارعی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعہ یمن ميں اپنی مشکلات حل کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات میں کامیابی کے لئے سعودی عرب کو اپنی رفتار تبدیل کرنا ہوگي۔ ایران کی خطے میں کسی سے کوئی لڑائي نہیں ہم علاقائي مسائل اور مشکلات کو منصافنہ طور پر حل کرنے کی تلاش و کوشش کررہے ہیں۔ یمن کے نہتے عوام کے خلاف سعودی عرب کی جارحیت متوقف ہونا چاہیے ۔ سعودی عرب کو یمن پر مسلط کردہ جنگ میں نہ کوئی کامیابی ملےگی اور نہ کوئي فائدہ پہنچے گا۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کو عراق، شام، لبنان اور یمن میں اپنی غلط پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے شوم اور ناپاک منصوبوں سے دور رہنا چاہیے۔

News Code 1908753

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha