ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کا ایک حصہ یمن سے متعلق ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کا ایک حصہ یمن کے امور سے متعلق ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کا ایک حصہ یمن کے امور سے متعلق ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات ابھی تک بند دروازوں کے پیچھے ہورہے ہیں مذاکرات کو آشکار نہیں کیا گيا ۔ مذاکرات کے چار دور عراق کے دارالحکومت بغداد میں منعقد ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ کسی وقفہ کے بغیر جاری ہے۔ مذاکرات دو طرفہ ، علاقائي اور عالمی امور پر مشتمل ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان  نے صوبہ خراسان کے گورنر کے دورہ افغانستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے افغانستان کے ساتھ عوامی اور تجارتی سطح پر اچھے روابط ہیں۔ خطیب زادہ نے کہا کہ طالبان سمیت افغانستان کے تمام سیاسی گروہوں کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں ۔ ہم افغانستان میں امن و صلح کے خواہاں ہیں اور افغانستان میں ایک ایسی حکومت کی تشکیل کے خواہاں ہیں جو افغان عوام کے ارادوں پر مشتمل اور وسیع البنیاد ہو۔

خطیب زادہ نے ایران کے نائب وزير خارجہ علی باقری کے دورہ پاکستان کے بارے میں مہر نیوز کے نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئےکہا کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ پاکستان کے نائب وزیرخارجہ کی دعوت پر انجام پذير ہوا اور علی باقری نے ایران اور پاکستان کے گیارہویں مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں بھی شرکت کی۔ اس سفر میں افغانستان کی تازہ ترین صورتحال ،دو طرفہ تعلقات کو مضبو ط بنانے اور علاقائي مسائل کے سلسلے میں بھی تبادلہ خیال کیا گيا۔

خطیب زادہ نے قندوز میں دہشت گردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئےکہا کہ  افغان میں امن و سکیورٹی کی ذمہ داری طالبان کے دوش پر ہے اور ایران نے بارہا اس بات پر تاکید کی ہے کہ ہم ایسے افغانستان کے خواہاں ہیں جہاں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا کوئی وجود نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ افغان عوام دہشت گرد اور قتل و غارت سے تنگ آچکے ہیں اور افغان عوام ہمہ گیر اور جامع حکومت کی تشکیل کے خواہاں ہیں جس میں تمام افغان گروہ شامل ہوں۔

News Code 1908476

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 6 =