بعض صحابہ نے آنحضور (ص) پر ہذیان کا الزام لگا کرقلم و دوات دینے سے انکار کردیا

پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) نے اپنی حیات طیبہ کے آخری ایام میں وصیت لکھنے اور امت کو انتشار سے بچانے کے لئے صحابہ سے قلم و دوات طلب کیا لیکن صحابہ نے قلم دوات دینے کے بجائے پیغمبر اسلام (ص) پر ہذیان کا الزام عائد کرکے قلم دوات دینے سے منع کردیا جس سے پیغمبر اسلام (ص)کو سخت صدمہ پہنچا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) نے اپنی حیات طیبہ کے آخری ایام میں وصیت لکھنے اور امت کو انتشار سے بچانے کے لئے صحابہ سے قلم و دوات طلب کیا لیکن صحابہ نے قلم دوات دینے کے بجائے پیغمبر اسلام (ص) پر ہذیان کا الزام عائد کرکے قلم دوات دینے سے منع کردیا جس سے پیغمبر اسلام (ص)کو سخت صدمہ پہنچا۔ حجۃ الوداع سے واپسی کے بعد پیغمبر اسلام (ص)  کی وہ علالت جوبروایت مشکواة خیبرمیں دئیے ہوئے زہرکے کروٹ لینے سے ابھراکرتی تھی مستمرہوگئی آپ علیل رہنے لگے بیماری کی خبرکے عام ہوتے ہی جھوٹے مدعی نبوت پیداہونے لگے جن میں مسیلمہ کذاب ،اسودعنسی، طلیحہ، سجاح زیادہ نمایاں تھے لیکن خدانے انہیں ذلیل کیا اسی دوران آپ کواطلاع ملی کہ حکومت روم مسلمانوں کوتباہ کرنے کامنصوبہ تیارکررہی ہے آپ نے اس خطرہ کے پیش نظرکہ کہیں وہ حملہ نہ کردیں اسامہ بن زیدکی سرکردگی میں ایک لشکربھیجنے کافیصلہ کیا اورحکم دیاکہ حضرت علی (ع) کے علاوہ اعیان مہاجروانصارمیں سے کوئی بھی مدینہ میں نہ رہے اوراس روانگی پراتنا زور دیا اور فرمایا:" لعن اللہ من تخلف عنہا"  جواس جنگ میں نہ جائے گااس پرخداکی لعنت ہوگی اس کے بعدآنحضرت نے اسامہ کواپنے ہاتھوں سے تیار کرکے روانہ کیا انہوں نے تین میل کے فاصلہ پرمقام جرف میں کیمپ لگایااوراعیان صحابہ کاانتظارکرنے لگے لیکن وہ لوگ نہ آئے ۔ اور تاریخ میں ہے کہ اسامہ کے لشکر سے انحراف کرنے والوں میں حضرت ابوبکروحضرت عمربھی تھے صفر کے مہینے کے آخر میں آپ رات کے وقت اہل بقیع کے لئے دعاکی خاطر تشریف لے گئے حضرت عائشہ نے سمجھاکہ میری باری میں کسی اوربیوی کے ہاں چلے گئے ہیں ۔ اس پروہ تلاش کے لیے نکلیں توآپ کوبقیع میں محودعاپایا۔

اسی سلسلہ میں آنحضرت (ص) نے فرمایا: کیااچھاہوتا اے عائشہ کہ تم مجھ سے پہلے مرجاتیں اورمیں تمہاری اچھی طرح تجہیزوتکفین کرتا انہوں نے جواب دیاکہ آپ چاہتے ہیں میں مرجاؤں توآپ دوسری شادی کرلیں۔ آنحضرت کی تیمارداری آپ کے اہل بیت کرتے تھے۔

واقعہ قرطاس

آنحضرت (ص) حجۃ الوداع سے واپسی پربمقام غدیرخم میں اپنی جانشینی کااعلان کرچکے تھے اب آخری وقت میں آپ نے یہ ضروری سمجھتے ہوئے کہ اسے دستاویزی شکل دیدوں اصحاب سے کہاکہ مجھے قلم ودوات اورکاغذ دیدو تاکہ میں تمہارے لیے ایک ایسی دستاویز لکھ دوں جوتمہیں گمراہی سے ہمیشہ ہمیشہ بچانے کے لیے کافی ہو یہ سن کر اصحاب میں باہمی چہ می گوئیاں ہونے لگیں لوگوں کے رحجانات قلم ودوات دے دینے کی طرف دیکھ کر حضرت عمرنے کہا ”ان الرجل لیھجرحسبناکتاب اللہ“ یہ مرد ہذیان کہہ رہاہے ہمارے لیے کتاب خداکافی ہے (صحیح بخاری پ ۳۰ ص ۸۴۲ )علامہ شبلی لکھتے ہیں روایت میں ہجرکالفظ ہے جس کے معنی ہذیان کے ہیں ۔۔۔

حضرت عمرنے آنحضرت(ص) کے اس ارشادکو ہذیان سے تعبیرکیاتھا(الفاروق ص ۶۱) لغت میں ہذیان کے معنی بیہودہ گفتن یعنی بکواس کے ہیں(صراح جلد ۲ ص ۱۲۳)

 شمس العلماء مولوی نذیراحمددہلوی لکھتے ہیں ”جن کے دل میں تمنائے خلافت چٹکیاں لے رہی تھی انہوں نے تودھینگامستی سے منصوبہ ہی چٹکیوں میں اڑادیا اورمزاحمت کی یہ تاویل کی کہ ہمارے ہدایت کے لیے قرآن بس کرتاہے اورچونکہ اس وقت پیغمبرصاحب کے حواس برجانہیں ہیں۔

کاغذ،قلم ودوات کالانا کچھ ضروری نہیں خداجانے کیاکیالکھوادیں گے ۔ (امہات الامة صفحہ ۹۲) اس واقعہ سے آنحضرت (ص)کوسخت صدمہ ہوا اورآپ نے جھنجلاکر فرمایا: قومواعنی میرے پاس سے دور ہو جاؤ ۔ نبی (ص) کے روبروشوروغل انسانی ادب نہیں ہے علامہ طریحی لکھتے ہیں کہ خانہ کعبہ میں پانچ افراد "حضرت ابوبکر،حضرت عمر،ابوعبیدہ ،عبدالرحمن ،سالم غلام حذیفہ "  نے متفقہ عہدوپیمان کیاتھا کہ ”لانودہذہ الامرفی بنی ہاشم“ پیغمبر(ص)کے بعدخلافت بنی ہاشم میں نہ جانے دیں گے۔

وصیت اوراحتضار

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آخری وقت آنحضرت(ص) نے فرمایا: میرے حبیب کوبلاؤ میں نے اپنے باپ ابوبکرپھرعمرکوبلایا، انہوں نے پھریہی فرمایاتومیں نے علی (ع)کوبلا بھیجا آپ نے علی (ع)کوچادرمیں لے لیااورآخر تک سینے سے لپٹائے رکھا اور فرمایا: اے علی(ص) تمہیں میرے بعدسخت صدمات پہنچیں گے تم صبرکرنا اوردیکھوجب اہل دنیا دنیاپرستی کریں توتم دین اختیارکئے رہنا(روضة الاحباب جلد ۱ ص ۵۵۹ ،مدارج النبوة جلد ۲ ص ۱۱۵ ، تاریخ بغداد ج ۱ ص ۲۱۹) ۔

رسول کریم کی وفات

حضرت علی علیہ السلام سے وصیت فرمانے کے بعد آپ کی حالت متغیر ہوگئی حضرت فاطمہ (س)جن کے زانو پرسرمبارک رسالت مآب تھا فرماتی ہیں کہ ہم لوگ انتہائی پریشانی میں تھے کہ ناگاہ ایک شخص نے اذن حضوری طلب کیا میں نے داخلہ سے منع کردیا، اورکہااے شخص یہ وقت ملاقات نہیں ہے اس وقت واپس چلاجا اس نے کہامیری واپسی ناممکن ہے مجھے اجازت دیجئے کہ میں حاضرہوجاؤں آنحضرت (ص)کوجوقدرے افاقہ ہواتو آپ نے فرمایا: اے فاطمہ(س) اجازت دے دو یہ ملک الموت ہیں فاطمہ نے اجازت دیدی اوروہ داخل خانہ ہوئے پیغمبر(ص)کی خدمت میں پہنچ کرعرض کی مولایہ پہلادروازہ ہے جس پرمیں نے اجازت مانگی ہے اوراب آپ کے بعدکسی کے دروازے پراجازت طلب نہ کروں گا (عجائب القصص علامہ عبدالواحد ص ۲۸۲ ،روضۃ الصفا جلد ۲ ص 216، انوارالقلوب ص ۱۸۸) ۔

 الغرض ملک الموت نے اپناکام شروع کیااور رسول کریم (ص) نے بتاریخ ۲۸/ صفر    ۱۱ ء ہجری یوم دوشنبہ بوقت دوپہرظاہری خلعت حیات اتاردیا(مودة القربی ص ۴۹ م ۱۴ طبع بمبئی ۳۱۰ ہجری)  اہلبیت کرام میں رونے کاکہرام مچ گیاحضرت ابوبکراس وقت اپنے گھرمحلہ سخ گئے ہوئے تھے جومدینہ سے ایک میل کے فاصلہ پرتھا حضرت عمرنے واقعہ وفات کونشرہونے سے روکااورجب حضرت ابوبکرآگئے تودونوں سقیفہ بنی ساعدہ چلے گئے جومدینہ سے تین میل کے فاصلہ پرتھا اورباطل پرمشوروں کے لیے بنایاگیاتھا (غیاث اللغات) اورانہیں کے ساتھ ابوعبیدہ بھی چلے گئے جوغسال تھے غرض کہ اکثرصحابہ رسول خدا(ص) کی لاش چھوڑ کر ہنگامہ خلافت میں جاشریک ہوئے اورحضرت علی (ئ) نے غسل وکفن کابندوبست کیاحضرت علی (ع)غسل دینے میں ،فضل ابن عباس حضرت کاپیراہن اونچاکرنے میں، عباس اورقثم کروٹ بدلوانے میں اوراسامہ وشقران پانی ڈالنے میں مصروف ہوگئے اورانہیں چھ آدمیوں نے نمازجنازہ پڑھی اوراسی حجرہ میں آپ کے جسم اطہرکودفن کردیاگیا جہاں آپ نے وفات پائی تھی ابوطلحہ نے قبرکھودی ۔

حضرت ابوبکروحضرت عمرآپ کے غسل وکفن اورنمازمیں شریک نہ ہوسکے کیونکہ جب یہ حضرات سقیفہ سے واپس آئے توآنحضرت کی لاش مطہر سپردخاک کی جاچکی تھی (کنزالعمال جلد 3ص 140 ،ارجح المطالب ص 670 ، المرتضی ص ۳۹ ، فتح الباری جلد 6ص 4) ۔

News Code 1908403

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 5 =