پاکستانی وزیر اعظم کا بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا اعلان

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کررہے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈیلی پاکستان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ  پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کررہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہم تحریک طالبان کے چند گروپوں کے ساتھ افغانستان میں بات چیت کر رہے ہیں، کالعدم تحریک طالبان ہتھیار ڈال دیں توہم انہیں معاف کر دیں گے، مذاکرات ہی مسائل کا حل ہے، ہم بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں، اور ان میں سے جو گروپس مفاہمت کے خواہش مند ہیں، ہم ان سے سیاسی مفاہمت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ امریکہ، یورپ ، چین اور روس کو افغانستان میں طالبان کو تسلیم کرنا چاہیے۔ پاکستانی وزیراعظم نے کہاکہ افغانستان میں حکومت سازی میں مداخلت ختم کرنا ہوگی، پاکستان چاہتا ہے افغانستان میں جامع حکومت ہو، افغانستان نے کبھی بیرونی طاقتوں کو قبول نہیں کیا، افغان شہری غیر ملکی تسلط تسلیم نہیں کرتے، افغانستان میں افراتفری پھیلنے سے سب سے زیادہ نقصان افغان شہریوں کو ہوگا، سرحد کے دونوں جانب پشتون عوام رہتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ افغان صورتحال کا ذمہ دار پاکستان نہیں ہے، نائن الیون واقعے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا، صدر بش کا پاکستان کو یہ کہنا کہ ہمارے ساتھ ہو یا نہیں تکبرانہ رویہ تھا، جنرل کیانی نے بھی امریکی صدر اوبامہ کو آگاہ کیا تھا کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ نائن الیون واقعہ میںم لوث 19 میں سے 15 افراد کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔

News Code 1908377

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 5 =