امریکہ کی افغانستان میں موجودگی سے افغان عوام کو تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑا

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے تاجیکستان میں پاکستان کے وزير اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں گذشتہ 20 سال کی موجودگی سے افغانستانی عوام کو تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مہرخبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے تاجیکستان میں پاکستان کے وزير اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں گذشتہ 20 سال کی موجودگی سے افغانستانی عوام کو تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایرانی صدر جناب سید ابراہیم رئیسی نے اس ملاقات میں ایران اور پاکستان کے دوستانہ ، برادرانہ ، تاریخی اور ثقافتی تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کو باہمی تعلقات کے فروغ کے سلسلے میں اپنی تمام ظرفیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

صدر ابراہیم رئیسی نے دونوں ممالک کی طولانی سرحدوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو سرحدی علاقوں میں اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہیے اور سرحدی مارکیٹوں سے بھر پور استفادہ کرنا چاہیے۔

صدر رئیسی نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔

صدر رئیسی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی افغانستان کے بارے میں مشترکہ اجلاس کی درخواست قبول کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ہمہ گیر اور جامع حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں تلاش وکوشش کرنی چاہیے جس میں تمام افغان اقوام اور قبائل کی نمائندگی موجود ہو۔ یہ ملاقات تاجیکستان میں ایرانی صدر رئیسی کی رہائشگاہ پر انجام پذیر ہوئی۔ اس ملاقات میں پاکستان کے وزير عمران خان نے ایران کی پاکستان کے بارے میں  برادرانہ اور دوستانہ نگاہ  پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تمام شعبوں خاص طور پر حمل و نقل کے شعبہ تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔پاکستانی وزیر اعظم نے افغانستان کی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن و صلح خطے کے تمام ممالک کے لئے اہمیت کی حامل ہے۔ عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں جامع حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں ایران اور پاکستان کو بھر پور تعاون کرنا چاہیے۔

News Code 1908183

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 8 =