عاشور کا دن ، پیغمبر اسلام، آئمہ اہلبیت (ع) اور ان کے پیروکاروں کے لئے مصیبت کا دن ہے

محرم الحرام کا دسواں دن، یوم عاشورکے نام سے مشہور ہے یہ دن حضرت امام حسین(ع) اور ان کے بہتر اصحاب کی شہادت کا دن ہے یہ دن پیغمبر اسلام ، ائمہ طاہرین اور ان کے پیروکاروں کیلئے حزن و غم اور مصیبت کا دن ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ محرم الحرام کا دسواں دن، یوم عاشورکے نام سے مشہور ہے یہ دن حضرت امام حسین(ع) اور ان کے بہتر اصحاب کی شہادت کا دن ہے یہ دن پیغمبر اسلام ، ائمہ طاہرین اور ان کے پیروکاروں کیلئے حزن و غم اور مصیبت کا دن ہے۔ یہ حزن و ملال میں رہنے کادن ہے ،بہتر یہی ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) اور ان کے اہلبیت (ع) کے چاہنے والے مومن اور مسلمان آج کے دن دنیاوی کاموں میں مصروف نہ ہوں اور گھر کے لئے کچھ نہ کمائیں بلکہ نوحہ و ماتم اور گریہ و زاری میںم صروف رہیں ،امام حسین(ع) کیلئے مجالس برپا کریں اور اس طرح ماتم و سینہ زنی کریں جس طرح اپنے کسی عزیز کی موت پر ماتم کیا کرتے ہوں آج کے دن امام حسین(ع) کی زیارت عاشور پڑھیں ، حضرت امام حسین (ع)  کے قاتلوں پر بہت زیادہ لعنت کریں اور ایک دوسرے کو امام حسین(ع) کی مصیبت پر ان الفاظ میں پرسہ دیں۔
اَعْظَمَ اللهُ اُجُورَنا بِمُصابِنا بِالْحُسَيْنِ عَلَيْهَ السَّلامُ وَجَعَلْنا وَاِيّاكُمْ مِنَ الطّالِبينَ بِثارِهِ مَعَ وَلِيِّهِ الاِمامِ الْمَهْدىِّ مِنْ آلِ مُحَمَّد عَلَيْهِمُ السَّلامُ
اللہ زیادہ کرے ہمارے اجر و ثواب کو اس پر جو کچھ ہم امام حسین(ع) کی سوگواری میں کرتے ہیں اور ہمیں تمہیں امام حسین(ع) کے خون کا بدلہ لینے والوں میں قرار دے اپنے ولی امام مہدی(ع) کے ہم رکاب ہو کر کہ جو آل محمد میں سے ہیں ۔
ضروری ہے کہ آج کے دن امام حسین(ع) کی مجلس اور واقعات شہادت کو پڑھیں خود روئیں اور دوسروں کو رلائیں ،روایت میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ(ع) کو حضرت خضر(ع) سے ملاقات کرنے اور ان سے تعلیم لینے کا حکم ہوا تو سب سے پہلی بات جس پر ان کے درمیان مذاکرہ مکالمہ ہوا وہ یہ ہے کہ حضرت خضر(ع) نے حضرت موسیٰ(ع) کے سامنے ان مصائب کا ذکر کیا جو آل محمد پہ آنا تھے ،اور ان دونوں بزرگواروں نے ان مصائب پر بہت گریہ و بکا کیا ۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:میں مقام ذیقار میں امیرالمؤمنین(ع) کے حضور گیاتو آپ نے ایک کتابچہ نکالا جو آپ کا اپنا لکھا ہوا اور رسول اللہ کا لکھوایا ہوا تھا، آپ نے اس کا کچھ حصہ میرے سامنے پڑھا اس میں امام حسین(ع) کی شہادت کا ذکر تھا اور اسی طرح یہ بھی تھا کہ شہادت کس طرح ہو گی اور کون آپ کو شہید کرے گا ،کون کون آپ کی مدد و نصرت کرے گا اور کون کون آپ کے ہمرکاب رہ کر شہید ہوگا یہ ذکر پڑھ کر امیرالمؤمنین(ع) نے خود بھی گریہ کیا اور مجھ کو بھی خوب رلایا ۔

 علامہ مجلسی نے زادالمعاد میں لکھا  ہے کہ بہتر ہے کہ نویں اور دسویں محرم کا روزہ نہ رکھے کیونکہ بنی امیہ اور ان کے پیروکار ان دو دنوں کو امام حسین(ع) کو قتل کرنے کے باعث بڑے بابرکت وحشمت تصور کرتے ہیں اور ان دنوں میں روزہ رکھتے تھے ،انہوں نے بہت سی جعلی حدیثیں حضرت رسول (ص) کی طرف منسوب کر کے یہ ظاہر کیا کہ ان دو دنوں کا روزہ رکھنے کا بڑا اجر و ثواب ہے حالانکہ اہلبیت سے مروی کثیر حدیثوں میں ان دودنوں اور خاص کر یوم عاشور کا روزہ رکھنے کی مذمت آئی ہے ،بنی امیہ اور ان کی پیروی کرنے والے برکت کے خیال سے عاشورا کے دن سال بھر کا خرچہ جمع کرکے رکھ لیتے تھے اسی بنا پر امام رضا(ع) سے منقول ہے کہ جو شخص یوم عاشور اپنا دنیاوی کاروبار چھوڑے گا تو حق تعالیٰ اس کے دنیا و آخرت سب کاموں کو انجام تک پہنچا دے گا ،جو شخص یوم عاشور کو گریہ و زاری اور رنج و غم میں گزارے تو خدائے تعالیٰ قیامت کے دن کو اس کیلئے خوشی و مسرت کا دن قرار دے گا اور اس شخص کی آنکھیں جنت میں اہلبیت کے دیدار سے روشن ہوں گی ،مگر جو لوگ یوم عاشورا کو برکت والا دن تصور کریں اور اس دن اپنے گھر میں سال بھر کا خرچ لا کر رکھیں تو حق تعالیٰ ان کی فراہم کی ہوئی اشیاء سے خیر و برکت اٹھا لے گا اور ایسے لوگ قیامت کے دن یزید بن معاویہ ،عبیداللہ بن زیاد اور عمرابن سعد جیسے ملعون جہنمیوں کے ساتھ محشور ہوں گے ۔

حمید ابن مسلم کا بیان ہے کہ عمر سعد نے لشکر حسینی پر سب سے پہلے تیر چلایا۔اس کے بعد تیروں کی بارش شروع ہوئی ۔حضرت امام حسین (ع) کے مو‏عظہ کا اثر صرف جناب حرپرپڑا۔انھوں نے ابن سعد کے پاس جاکر آخری ارادہ معلوم کیا پھر اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائي اور امام حسین (ع) کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔  اس کے بعد گھوڑے سے اتر کر امام حسین (ع) کی رکاب کو بوسہ دیا  اما م حسین (ع) نے حرکومعافی دے کر جنت کی بشارت دی۔ (دمعہ ساکبہ ص۳۳۰ ) میں ہے کہ حرکے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔حمید ابن مسلم کا بیان ہے کہ عمر سعد نے لشکر حسینی پر سب سے پہلے تیر چلایا۔اس کے بعد تیروں کی بارش شروع ہوئی۔روضۃ الاحباب میں ہے کہ جناب حرکوقصور ابن کنانہ اور ارشاد میں ہے کہ ایوب مشرح نے ایک کوفی کی مدد سے شہید کیا ہے۔

علامہ عیسیٰ اربلی لکھتے ہیں کہ جناب حرکی شہادت کے بعد عمر سعد کے لشکر سے دونابکار مبارزطلب ہوئے جن کے نام نسیان وسالم تھے۔ان کے مقابلہ کے لیے امام حسین (ع) کے لشکر سے جناب حبیب ابن مظاہر اور یزید ابن حصین برآمد ہوئے اور ان دونوں کو چند حملوں میں فنا کے گھاٹ اتاردیا۔اس کے بعد معقل ابن یزید سامنے آیا۔جناب یزید ابن حصین اور بقول مجلسی بریر ابن خضیر ہمدانی نے اسے قتل کر ڈالا۔پھر مزاحم ابن حریث سامنے آیا۔اسے جناب نافع ابن ہلال نے قتل کر دیا۔  عمرابن سعد نے جب حسینی بہادروں کی شان شجاعت دیکھی تو سمجھ گیا کہ ان سے انفرادی مقابلہ ناممکن ہے۔لہٰذا اجتماعی حملہ کا پروگرام بنایااور اپنے چیف کمانڈر کو حکم دیا کہ کثیر تعداد میں کمان اندازوں کو لا کر یکبارگی تیربارانی کر دے۔چنانچہ اس نے تعمیل حکم کی اور بے شمار تیراندازوں کے ذریعہ سے تیر برسانے شروع کر دیئے ۔جس کے نتیجے میں حضرت امام حسین (ع) کا تقریبا تمام لشکر مجروح ہوگیااورحضرت امام حسین (ع) کے  ۳۲ سے لیکر۵۰ اصحاب اسی وقت شہید ہوگئے۔

یوم عاشور وہ وقت آیا کہ امام حسین علیہ السلام کے حامیوں میں کوئی بھی زندہ نہیں بچا، "حبیب"، "زہیر"؛ "بریر" اور  "حر" سمیت تمام اصحاب و انصار شہید ہوچکے ہیں اور "اکبر"، "قاسم"، "جعفر" اور دیگر جوانان بنی ہاشم – حتی کہ شش ماہہ علی اصغر (ع) اپنی جانیں اسلام پر نچھاور کر چکے ہیں، اور عباس علمدار کربلا بھی شہید ہوگئے۔

امام حسین علیہ السلام نے دائیں بائیں نظر دوڑائی، اس وسیع و عریض دشت میں، مگر آپ (ع) کو کوئی بھی نظر نہیں آیا۔ کوئی بھی نہ تھا جو امام (ع) کی حفاظت اور حرم رسول اللہ کے دفاع کے لئے جانبازی کرتا... جو تھے وہ اپنا فرض ادا کرچکے تھے۔

حضرت امام حسین (ع) نے میدان کربلا میں حق و باطل، علم و جہل، رضائے الٰہی اور خواہشات نفسانی کے درمیان حد فاصل قائم کرنے والی وہ عظیم و بے مثال قربانی پیش کی کہ محرم الحرام کی نسبت ہی امام عالی مقام سے ہوگئی۔ حضرت امام حسین (ع) کی ذات اقدس اور ان کا مقصد شہادت اتنا بلند ہے کہ ضروری نہیں ہر ذہن ان فضائل، مراتب اور راہ خدا میں اس بے مثال قربانی کا احاطہ کرسکے، جو خاندان نبوت نے میدان کربلا میں پیش کی۔

News Code 1907841

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 2 =