چین نے جاسوسی کے الزام میں کینیڈا کے شہری کو 11 سال قید کی سزا سنا دی

چین میں جاسوسی اور ملکی راز چرانے کے الزام میں کینیڈا کے معروف بزنس مین مائیکل اسپاور کو 11 سال قید اور 50 ہزار یوان جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ چین میں جاسوسی اور ملکی راز چرانے کے الزام میں کینیڈا کے معروف بزنس مین مائیکل اسپاور کو 11 سال قید اور 50 ہزار یوان جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ 

اطلاعات کے مطابق چین کے شمال مشرقی شہر ڈانڈونگ کی عدالت نے ملکی راز چرانے اور غیرملکوں کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں کینیڈا کے معروف کاروباری شخصیت مائیکل اسپاور کو 11 برس قید کی سزا سنا دی ہے جب کہ 50 ہزار یوان کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

عدالت نے سزا مکمل کرنے کے بعد تاجر مائیکل اسپاور کو ملک بدر کرنے کا حکم دیا ہے۔ مائیکل اسپاور کو 2018 میں ان کے دوست اور سابق سفارت کار مائیکل کورگ کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا۔

اس فیصلے سے چین اور کینیڈا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ ہوگا۔ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے چین کی عدالت کے فیصلے کو ناقابل قبول اور غیرمنصفانہ قرار دیا ہے ۔

واضح رہے کہ کینیڈا میں چینی موبائل کمپنی ہواوے کی ایک اعلیٰ عہدیدار مینگ وانز ہو کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد چین نے جوابی کارروائی میں  کینیڈا کے متعدد شہریوں کو گرفتار کرلیا تھا۔

News Code 1907747

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 2 =