عراق کو داعش کے خلاف لڑنے کے لئے امریکی فوج کی کوئی ضرورت نہیں

عراق کے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے کہا ہے کہ عراقی فورسز داعش کے خلاف خود جنگ لڑ سکتی ہیں اس لیے عراق میں امریکی فوج کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراق کے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے امریکہ کے دورے سے قبل اے پی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی فورسز داعش کے خلاف خود جنگ  لڑ سکتی ہیں اس لیے عراق میں امریکی فوج کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔

عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے ٹائم فریم سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم مصطفیٰ کاظمی نے بتایا کہ آئندہ ہفتے امریکی صدر سے ملاقات میں امريکی دستوں کی کسی اور ملک منتقلی یا وطن واپسی کے طریقے کار اور ٹائم فریم کا فیصلہ کیا جائے گا۔

عراق کے وزیراعظم ٰ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ داعش کے خلاف لڑائی ميں کامیابی حاصل کرلی ہے اور شدت پسند سکڑ کر ایک مختصر علاقے تک محدود ہوگئے ہیں اس لیے عراق میں اب امريکی فوجی دستوں کی ضرورت نہيں۔ عراقی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہماری فوج اپنے ملک کا خود دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اب اپنی سرزمین پر کسی بھی غیرملکی فوجی دستوں کا وجود نہیں چاہتے۔ غیر ملکی فوجیوں نے داعش کے خلاف جنگ میں ہمارا ساتھ دیا جس پر شکر گزار ہیں۔

ادھر عراق کی مزاحمتی تنظیموں نے بھی عراق سے امریکی فوجی انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی پارلیمنٹ کے قانون کے مطابق امریکی فوج کو فوری طور پر عراق سے نکل جانا چاہیے۔واضح رہے کہ داعش کی آڑمیں امریکی اسلامی ممالک میں عدم استحکام پیدا کررہا ہے۔ امریکی حکومت در حقیقت  داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی  بانی اور سرپرست ہے۔

News Code 1907512

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 1 =