طالبان کو عراق، شام اور یمن کی صورتحال سے عبرت حاصل کرنی چاہیے

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے خوست میں ایک تقریب کے دوران خطاب میں طالبان کو عراق ، شام اور یمن کی صورتحال سے عبرت حاصل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنگ و جدال کے بجائے قومی امن و صلح کے دھارے میں شامل ہوجائیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے آناتولی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے خوست میں ایک تقریب کے دوران خطاب میں طالبان کو عراق ، شام اور یمن کی صورتحال سے عبرت حاصل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنگ و جدال کے بجائے قومی امن و صلح کے دھارے میں شامل ہوجائیں۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے خوست ایئرپورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ملک سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہونے کے بعد اب طالبان کس سے اور کیوں جنگ کر رہے ہیں۔ 

اطلاعات کے مطابق افغانستان کے صدر اشرف غنی نے صوبے خوست میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں مطالبہ کیا کہ طالبان کو افغان تنازع کو امریکہ سے فروری 2021 کو دوحہ میں کیے گئے امن معاہدے کے تحت حل کرنا چاہیئے۔

صدر اشرف غنی نے مزید کہا کہ افغان حکومت کے علاوہ کوئی بھی طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کر سکتا اور اس کے لیے بہترین پلیٹ فارم بین الافغان مذاکرات ہے جس میں جان بوجھ کر تاخیر کی جارہی ہے۔

افغان صدر نے طالبان قیادت سے سوال کیا کہ ملک سے غیر ملکی افواج کے چلے جانے کے بعد اب کس سے اور کیوں جنگ کی جا رہی ہے؟ ہم سب کو شام، عراق اور یمن کا حشر یاد رکھنا چاہیے اور اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔

News Code 1907337

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 12 =