امریکہ نے انٹرنیٹ سائٹوں کو مسدود کرکے آزادی بیان کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا

امریکی حکومت نے اسلامی مزاحمتی محاذ کی 36 سائٹوں کو مسدود کرکے آزادی بیان کے خلاف اعلانیہ جنگ کا آغاز کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے اسلامی مزاحمتی محاذ کی 36 سائٹوں کو مسدود کرکے آزادی  بیان کے خلاف اعلانیہ جنگ کا آغاز کردیا ہے۔ امریکی وزارت انصاف نے ناانصافی کا واضح ثبوت دیتے ہوئے کل رات اسلامی مزاحمتی محاذ کی 33 سائٹوں کو کسی دلیل کے بغیر بلاک کرنے کا حکم صادر کیا جو آزادی بیان  اور آزادی اظہارکی کھلی اور آشکارا خلاف ورزی ہے۔ امریکہ نے اسلامی ریڈیو اور ٹی وی یونین سے متعلق 33 ویب سائٹوں اور کتائب حزب اللہ عراق سے وابستہ 3 وب سائٹوں کو کل رات مسدود کردیا جو اظہار بیان اور آزادی بیان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے آزادی اور  اظہار بیان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے العالم ٹی وی چینل کی ویب سائٹ، یمن کی المسیرہ، پریس ٹی وی، کتائب حزب اللہ عراق، بحرین کی اللولوء ، فلسطین الیوم اورالکوثر سائٹوں کو مسدود کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی وزارت انصاف نے سامراجی اہداف کے تحت گذشتہ برس کے اواخر سے مزاحمتی تنظیموں کی سائٹوں کو بند کرنے کا آغاز کیا تھا تاکہ عراق، یمن ، فلسطین ، بحرین  اور دیگر علاقوں کے مظلوموں کی آواز دنیا تک نہ پہنچ سکے۔ امریکی حکومت کا یہ اقدام اظہار خیال اور آزادی بیان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق  ویب سائٹوں کو مسدود کرنے کے سلسلے میں امریکی وزارت انصاف جلد بیان صادر کرےگی۔ ابھی تک امریکی وزارت انصاف نے اپنے دہشت گردانہ اور معاندانہ اقدام کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

مسدود کردن وب‌سایت‌های مقاومت؛ جنگ علنی آمریکا علیه «آزادی بیان»

المسیرہ کے رابطہ عامہ نے ایک بیان میں امریکی اقدام کو ذرائع ابلاغ کے خلاف کھلی دہشت گردی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مظلوموں کی آواز کو دنیا تک  پہنچانے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے لیکن امریکہ کی ذرائع ابلاغ کے خلاف کھلی دہشت گردی کی کوشش ناکام ہوجائےگی۔

عراق کے تجزيہ نگار علی فاہم کا کہنا ہے کہ امریکہ نے صرف سیاسی سائٹوں کو مسدود نہیں کیا بلکہ دینی سائٹوں کو بھی بلاک کیا ہے جو امریکہ کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کھلی دشمنی کا ثبوت ہے۔ انھوں نے کہا کہ الکوثر اور الکربلا سائٹوں پر امریکی پابندی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ عرب جوانوں کو اسلام سے دور کرنے اور اپنے من پسند افکار سے قریب کرنے کی کوشش کررہا ہے اور امریکہ کی یہ کوشش ناکام ہوجائےگی۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق اسلامی مزاحمتی محاذ کے ذرائع ابلاغ نے خطے میں امریکی پالیسیوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا جس کی وجہ سے امریکہ نے آزادی بیان کے خلاف کھلی جنگ کا آغاز کردیا ہے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو آزادی بیان اور آزادی اظہار کی جنگ میں بھی شکست اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑےگا۔

News Code 1907083

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 9 =