پاکستان میں مفتی عزیز الرحمٰن کو طالب علم کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا

پاکستان میں لاہور پولیس نے مدرسے میں طالبعلم سے جنسی زیادتی کرنے والے مفتی عزیز الرحمٰن کو میانوالی سے گرفتار کر لیا ہے۔ مفتی عزیز الرحمن جنسی زیادتی کے بعد روپوش ہوگئے تھے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان میں لاہور پولیس نے مدرسے میں طالبعلم سے جنسی زیادتی کرنے والے مفتی عزیز الرحمٰن کو میانوالی سے گرفتار کر لیا ہے۔ مفتی عزیز الرحمن جنسی زیادتی کے بعد روپوش ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق مفتی عزیز الرحمٰن کے 1 بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔مفتی عزیز الرحمٰن اور ان کے بیٹے مبینہ زیادتی کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سے روپوش تھے۔مدرسے میں طالب علم سے مبینہ زیادتی میں ملوث مفتی عزیز الرحمٰن کو پولیس نے میانوالی سے گرفتار کر لیا ۔ پولیس کے مطابق ملزم مفتی عزیز الرحمن کی گرفتاری کے لیے 2 روز قبل ٹاؤن شپ میں چھاپہ مارا تھا، جہاں سے وہ پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہو گئے تھے۔

پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع ملی کہ مفتی عزیزالرحمٰن میانوالی میں ہیں، جہاں چھاپہ مار کر مفتی عزیز اور ان کے ایک بیٹے کو گرفتارکر لیا گیا ہے۔

مفتی عزیز الرحمٰن کے 2 بیٹے تاحال مفرور ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

مفتی عزیز الرحمٰن اور ان کے بیٹوں کے خلاف صابر شاہ نامی طالب علم نے تھانہ صدر میں مقدمہ درج کرا رکھا ہے، جس میں مفتی عزیز الرحمٰن پر 3 سال تک زیادتی کا نشانہ بنانے اور ان کے بیٹوں کے خلاف دھمکیاں دینے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق مفتی عزیز الرحمٰن کی طالب علم سے مبینہ زیادتی کی ویڈیو چند روز قبل منظر عام پر آئی تھی۔ مفتی عزیز الرحمٰن نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ جب یہ معاملہ ہوا، وہ ہوش میں نہیں تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مدعی طالب علم صابر شاہ محفوظ مقام پر ہے۔ مفتی عزیز الرحمٰن کا تعلق جمعیت علمائے اسلام سے ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے بعض مفتی غیر اخلاقی حرکتوں میں ملوث رہے ہیں جن میںم فتی عبدالقوی بھی شامل ہیں جن کی ایک خاتون نے پٹائی بھی کی تھی۔

News Code 1907032

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 7 =