اقوام متحدہ کی میانمار کو اسلحے بیچنے پر پابندی کی اپیل

اقوام متحدہ نے میانمار کو اسلحہ فروخت نہ کرنے کی عالمی برادری سے اپیل کی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ نے میانمار کو اسلحہ فروخت نہ کرنے کی عالمی برادری سے اپیل کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد منظور کرکے میانمار کی فوجی بغاوت کی شدید مذمت کی جس میں فروری میں ملک کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔  اقوام متحدہ نے میانمار کی فوج پر منتخب رہنما آنگ سان سوچی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے زور دیا۔

اگرچہ قرارداد پر عمل کرنا رکن ملکوں کے لیے قانونی طور پر لازمی نہیں، تاہم اس کی سیاسی طور پر بہت اہمیت ہے۔ اس قرارداد کی حمایت میں 119 ممالک نے ووٹ دیا اور صرف بیلاروس نے مخالفت کی، جبکہ چین، روس، بھارت سمیت 35 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ روس اور چین میانمار کو سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کرتے ہیں۔

میانمار کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی سفیر کرسٹین شارنر برگنر نے جنرل اسمبلی سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میانمار میں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی کا حقیقی خطرہ ہے، وقت ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے اور فوجی بغاوت کو ختم کرنے کے امکانات کم ہوتے جارہے ہیں۔

قرارداد میں حصہ نہ لینے والے بعض ممالک نے اسے میانمار کا اندرونی معاملہ قرار دیا تو کچھ نے کہا کہ اس قرارداد میں کچھ سال قبل روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا ازالہ نہیں کیا گیا جب لاکھوں مسلمانوں کو میانمار سے ہجرت کرنی پڑی تھی۔

News Code 1907013

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 14 =