امام جعفر صادق (ع) : طلب معاش میں دھوپ اور گرمی کی تکلیف برداشت کرنا عیب نہیں

حضرت امام جعفر صاد ق (ع) پیغمبر اسلام (ص) کے چھٹے جانشین اور سلسلہ عصمت کی آٹھویں کڑی ہیں آپ کے والد ماجد امام محمدباقر (ع) اور مادرگرامی جناب ''ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر'' تھیں ۔ آپ منصوص من اللہ معصوم تھے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حضرت امام جعفر صاد ق (ع) پیغمبر اسلام (ص) کے چھٹے جانشین اور سلسلہ عصمت کی آٹھویں کڑی ہیں آپ کے والد ماجد امام محمدباقر (ع) اور مادرگرامی جناب ''ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر'' تھیں ۔ آپ منصوص من اللہ معصوم تھے۔ آپ کا اسم گرامی جعفر (ع) ۔ آپ کی کنیت عبد اللہ ،ابو اسماعیل ، اور آپ کے القاب صادق، صابر ،فاضل ، طاہر وغیرہ ہیں ۔علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ جناب رسول خدا (ص)نےاپنی ظاہری زندگی میں حضرت جعفر بن محمد علیہ السلام کو صادق کے لقب سے ملقب فرمایا تھا ۔

آپ کے اخلاق و اوصاف زندگی کے ہر شعبہ میں معیاری حیثیت رکھتے ہیں ۔ مثلا مہمان نوازی ، خیرو خیرات، مخفی طریقہ پر غربا کی خبر گیری ، عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک ، عفو جرائم ، صبر و تحمل وغیرہ ہیں۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ آپ مالداروں سے زیادہ غریبوں کی عزت کرتے تھے ، مزدوروں کی بڑی قدر کرتے تھے ، خود تجارت کرتے تھے اور اکثر اپنے باغوں میں بہ نفس نفیس محنت کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ آپ بیلچہ لۓ باغ میں کا م کر رہے تھے اور پسینہ سے تمام جسم تر ہو گیا تھا کسی نے کہا کہ یہ بیلچہ مجھے دے  دیجئے میں یہ خدمت انجام دوں ، امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا طلب معاش میں دھوپ اور گرمی کی تکلیف برداشت کرنا عیب نہیں ہے ۔

دنیاوی اقتدار کی خاطر بنی عباس نے بھی پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) کے اہلبیت (ع)  کے ساتھ وہی ظالمانہ سلوک روا رکھا جس کی بنیاد بنی امیہ نے ڈالی تھی ۔

حضرت امام صادق (ع) عبدالملک بن مروان( پانچواں اموی خلیفہ ) کے زمانے میں پیدا ہوئے اور اسکے بعد باقی 8 بنی امیہ خلفاء  اور دو عباسی خلفاء کے ہمعصر تھے۔

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا بیان ہے:
  ایک بار منصور نے میرے والد کو طلب کیا تا کہ وہ انھیں قتل کرے ۔ اس کے لئے اس نے شمشیر اور بساط بھی آمادہ کر رکھی تھی۔ ربیع (جو منصور کے درباریوں میں سے تھا) کو اس بات کا حکم دیا کہ جب ''جعفر بن محمد'' علیہ السلام میرے پاس آئیں اور میں ان سے گفتگو کرنے لگوں تو جس وقت میں ہاتھ کو ہاتھ پر ماروں اس وقت تم ان کی گردن اڑا دینا۔
    امام علیہ السلام وارد ہوئے منصور کی نظر جیسے ہی امام پر پڑی بے اختیار اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا اور امام (ع) کو خوش آمدید کہا ۔ اور اس بات کا اظہار کیا کہ میں نے آپ کو اس لئے بلایا ہے تا کہ آپ کے قرضوں کو چکادوں۔ اس کے بعد خوش روئی سے امام کے اعزاء و اقارب کے حالات دریافت کئے اور ربیع کی طرف رخ کرکے کہنے لگا تین روز بعد امام کو ان کے اعزا و اقارب کے پاس پہنچا دینا۔
    آخر منصور امام کو برداشت نہ کرسکا جن کی امامت کا شہرہ ملتِ اسلامیہ کے گوشہ گوشہ تک پہنچ چکا تھا۔ شوال ۱۴۸ھ میں امام کو زہر دیا ۔امام علیہ السلام نے ۲۵/شوال کو ۶۵ برس کی عمر میں شہادت پائی .آپ کے جسم اطہر کو جنت البقیع میں امام محمد باقر علیہ السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

News Code 1906806

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 2 =