فلسطین کے اہم معاملے پر بے عملی اقوامِ متحدہ اور سکیورٹی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر نے کہا ہے کہ فلسطین کے اہم معاملے پر بے عملی اقوامِ متحدہ اور سکیورٹی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر نے کہا ہے کہ فلسطین کے اہم معاملے پر بے عملی اقوامِ متحدہ اور سکیورٹی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں تاریخی خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر کا کہنا تھا کہ کورونا وبا نے دنیا میں بڑے  معاشرتی، سیاسی اور معاشی مسائل کو جنم دیا، جن کا حل مشترکہ لائحہ عمل سے ہی ممکن ہے، ان حالات میں ممبر ممالک کو اکٹھا رکھنا بڑا چیلنج تھا، کورونا ویکسین امیر اور غریب ممالک کی یکساں ضرورت ہے۔

مسئلہ فلسطین، کشمیر، افغانستان ، کوڈ 19 اور اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے صدر وولکن بوزکر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے پچھلے ہفتے فلسطین کی صورتحال پر میٹنگ بلائی تاکہ سیکیورٹی کونسل کی خاموشی اور ڈیڈلاک کا ازالہ کیا جاسکے، اس اہم معاملے پر بے عملی اقوامِ متحدہ اور سیکورٹی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے، میں امید کرتا ہوں کہ سکیورٹی کونسل کی جانب سے بھی اس اہم اور ضروری مسئلہ پر متفقہ آواز سنائی دے گی۔

صدر جنرل اسمبلی نے کہا کہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینیوں کی جانیں چلی گئیں، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، میں  پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس ملاقات کے لیے وقت نکالا اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے مضبوط مؤقف اور حمایت کا اظہار کیا۔

وولکن بوزکر کا کہنا تھا کہ اس وقت مذاکرات کی فوری ضرورت ہے تاکہ اسرائیلی قبضے کو ختم کیا جاسکے اور دو خود مختار ریاستوں کا قیام عمل میں آسکے، جو باہم امن سے رہیں اور 1967 سے قبل کی سرحدوں میں ہوں اور یروشلم دونوں کا دارالحکومت ہو، میں یقین دلاتا ہوں کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی تک یو این جنرل اسمبلی  آرام سے نہیں بیٹھے گی۔

صدر جنرل اسمبلی نے کہا کہ مجھے جموں و کشمیر کی صورتحال کا بھی بخوبی علم ہے، مجھے ادراک ہے کہ ایک عام پاکستانی کشمیر کے حوالے سے کیا محسوس کرتا ہوگا کہ جب فلسطین کے حوالے سے اس کے جذبات اس قدر شدید ہیں، جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام اور خوشحالی کا دارومدار پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بحالی پر ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ تنازعہ کشمیر کا حل نکالیں۔

صدر جنرل اسمبلی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی قرداردادو کی روشنی میں ہم نے ہمیشہ فریقین پر زور دیا ہے کہ زمینی حقائق کو تبدیل نہ کیا جائے، متنازعہ علاقے کی حیثیت کو بدلنے سے گریز کیا جائے، تنازعہ کشمیر بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ مسئلہ فلسطین ہے، بطور صدر جنرل اسمبلی میں بھارت اور پاکستان پر زور دیتا ہوں کہ اس مسئلہ کے پر امن حل کے راستے پر چلیں۔

News Code 1906695

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 10 =