عرب ممالک کے حکمرانوں کی خاموشی اور فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جاری

بعض عرب اور اسلامی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرکے اسے فلسطینیوں کے خلاف سنگین جرائم کرنے کا حوصلہ عطا کیا اور اس طرح بعض عرب اور اسلامی ممالک فلسطینیوں پر ہونے والے اسرائیلی مظالم اور جرائم میں برابر کے شریک بن گئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق بعض عرب اور اسلامی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرکے اسے فلسطینیوں کے خلاف سنگین جرائم کرنے کا حوصلہ عطا کیا اور اس طرح بعض عرب اور اسلامی ممالک فلسطینیوں پر ہونے والے اسرائیلی مظالم اور جرائم  میں برابر کے شریک بن گئے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے عرب اور اسلامی ممالک میں مصر، اردن، ترکی، متحدہ عرب امارات اور بحرین بھی شامل ہیں۔ عربی اور اسلامی ممالک نے اسرائیل کی غاصب اور ناجائز حکومت کو تسلیم کرکے گویا اسے فلسطینیوں کے خلاف جرم و جنایت کا ارتکاب کرنے میں حوصلہ عطا کیا اور مدد فراہم کی ، اس طرح فلسطینی عوام پر ہونے والے اسرائیلی مظالم میں بعض عرب اور اسلامی ممالک برابر کے شریک ہیں اس لئے ان کی لفظی مذمت سے اسرائیل پر کوئی فرق نہیں پڑتا ، انھوں نے درحقیقت مسئلہ فلسطین ، بیت المقدس، اسلام  اور مسلمانوں کے ساتھ غداری کا ارتکاب کیا ہے، اسلامی مبصرین کے مطابق اسرائیل کو تسلیم کرنے والے عرب اور اسلامی ممالک کے حکمراں امریکی اتحادی ہیں اور امریکہ دنیا میں اسرائیل کا سب سے بڑا حامی اور مددگار ملک ہے ۔

اسرائیل نے مسجد الاقصی میں فلسطینی نمازیوں پر حملہ کرکے ثابت کردیا کہ وہ کسی بھی عالمی اور انسانی قانون کا پابند نہیں ۔ اسرائیل کی ناجائز حکومت کو تسلیم کرنے والے عرب اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اپنی غداری کا عملی ثبوت پیش کیا ہے ، ایسے غدار حکمرانوں کے خلاف مسلمانوں کو متحد ہونا چاہیے اور اسلامی ممالک سے جب تک امریکہ کے حامی حکمرانوں کا صفایا نہیں کیا جائےگا تب تک اسلامی ممالک میں زوال اور پستی کا سلسلہ جاری رہےگا۔  جس طرح ایرانی عوام نے امریکہ نواز شاہ ایران کا تختہ الٹ کر اسلامی نظام قائم کیا اور آج ایرانی عوام اسی اسلامی نظام کی بدولت فلسطینیوں کی آشکارا اور عملی حمایت کررہے ہیں ۔ اسلام اور مسلمانوں کی بالا دستی کے لئے اسلامی اور عربی ممالک سے امریکہ کے ایجنٹ حکمرانوں کا خاتمہ بہت ضروری ہے جب تک  مسلم اور عرب ممالک میں امریکہ کے حامی اور نام نہاد مسلم حکمراں مسلط رہیں گے تب تک مسلمانوں کی پستی ، زوال اورمشکلات کا سلسلہ جاری رہےگا۔

‎فلسطین پر صہیونی بربریت، جارحیت اور مظالم کا سلسلہ ایک بار پھر انسانیت کو شرمسار کررہاہے اور عرب ممالک سمیت پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔غزہ میں صہیونی اشتعال انگیزی میں اب تک سیکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے ہیں فلسطینی اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہیں۔ فلسطینی علاقہ شیخ جراح میں آباد فلسطینیوں کو ان کے گھر سے بھگانے اور وہاں یہودی بستی بسانے کے اپنے ناپاک منصوبہ کی تکمیل کیلئے اسرائیل  فلسطینیوں پر  راکٹ حملے اور بمباری کررہاہے جس میں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بھی شہید ہورہے ہیں ۔ اسرائیلی جنگی طیاروں کی جانب سے غزہ میں حملوں کا سلسلہ  جاری ہے کئی دنوں سے مسلسل ہورہےحملوں میں اب تک کم ازکم 200 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں جبکہ زخمیوں میں سیکٹروں مرد وخواتین اور بچے شامل ہیں

‎مشرقی یروشلم میں واقع شیخ جراح کے رہائش پذیر افراد کو اس علاقہ سے بے دخل کرنے اور ان کے گھروں کو تباہ و مسمار کرنے کا یہ منصوبہ عالمی امن اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بالکل خلاف ہے لیکن اقوام متحدہ یا عالمی برادری اس کا نوٹس لینے اور ا سرائیل کی اس جارحانہ اور انسانیت مخالف کارروائی کی مذمت کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں  ۔مشرقی یروشلم کے جس علاقہ میں یہودی آباد کاروں کو بسانے کیلئے فلسطینیوں کو قتل کیا جا رہا ہے، وہ 1949 سے ہی مسلمانوں کے پاس تھااور اردن اس پورے خطہ کا نگراں تھا، آج بھی یہاں3لاکھ سے زیادہ فلسطینی مسلمان آباد ہیں ۔فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مشرقی یروشلم کا یہ علاقہ ان کی آئندہ ریاست کا دارالحکومت ہوگا لیکن اسرائیل یہاں سے فلسطینیوں کا انخلاچاہتا ہے۔ 1967کی جنگ کے بعد اس علاقہ پر صہیونی حکومت نے قبضہ کرلیا تھا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے برخلاف اس علاقہ کو خالی کرنے سے انکار کردیاتھا اورآج تک انتہائی بے شرمی اورڈھٹائی کے ساتھ تمام اخلاقی اور انسانی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے وہاں سے فلسطینیوں کے انخلا کا ارادہ کیے ہوئے ہے لیکن اسرائیلی بربریت کے باوجود فلسطینی عوام کاصبروتحمل،جذبہ آزادی اوران کی استقامت قابل قدر ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے فلسطینیوں کی عملی مدد کرتے ہوئے انھیں آج پتھروں کے بجائے راکٹوں اور میزائلوں سے اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے قابل بنادیا ہے ، جس پر فلسطینی رہنماؤں نے ایران اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کی دفاعی پوزیشن مضبوط بنانے کے سلسلے میں شہید میجر جنرل قاسم سلیمانی نے اہم اور بنیادی کردار ادا کیا اور الحمد للہ آج فلسطینی اسرائیل کا پتھروں سے نہیں بلکہ راکٹوں اور میزائلوں سے دنداں شکن جواب دے رہے ہیں، آج اگر فلسطینیوں کو آرام نہیں تو اسرائیلیوں کا آرام و سکون بھی سلب ہوگیا ہے۔ فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے جواب میں مقبوضہ علاقوں میں راکٹوں کی بارش کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن بعض عرب اور اسلامی ممالک نے اسرائیل کی ناجائز اور غیر قانونی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرکے اپنا منہ کالا کیا اور اپنا مکروہ چہرہ دنیائے اسلام کے سامنے پیش کردیا ہے مسلمانوں کو ان بے غیرت عرب حکمرانوں کا محاسبہ کرنا چاہیے۔

News Code 1906568

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 1 =