پاکستانی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں افغان سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا

پاکستان کی وزارت خارجہ نے افغان طالبان کے ساتھ پاکستان کے گہرے تعلقات کے حوالے سے افغان قیادت کے حالیہ بیانات پر اپنے سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد میں افغان سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے ۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے افغان طالبان کے ساتھ پاکستان کے گہرے تعلقات کے حوالے سے افغان قیادت کے حالیہ بیانات پر اپنے سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد میں افغان سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے ۔ ایک بیان میں پاکستانی وزارت  خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے اسلام آباد میں افغان سفیر کو سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا۔

بیان میں کہا گیا کہ 'پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بے بنیاد الزامات سے اعتماد میں کمی آئے گی اور دونوں برادر ممالک کے درمیان ماحول خراب ہوگا اور افغان امن عمل کو آسان بنانے میں پاکستان کی جانب سے جو تعمیری کردار ادا کیا جا رہا ہے وہ نظرانداز ہوسکتا ہے۔

پاکستانی وزارت  خارجہ کا  رد عمل  افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے جرمن اخبار کودیئے گئے  انٹرویو کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر اشرف غنی نے جرمن اخبار کے ساتھ  گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں سرگرم طالبان دہشت گردوں کو پاکستان سے اسلحہ اور امداد فراہم کی جاتی ہے ۔

اشرف غنی نے کہا تھا کہ طالبان کو وہاں سے سامان ملتا ہے، ان کی مالی اعانت ہوتی ہے اور وہاں سے بھرتی بھی ہوتی ہے۔

افغان صدر نے جرمن میگزین کو بتایا کہ 'طالبان کی فیصلہ سازی کرنے والی مختلف تنظیموں کے نام کوئٹہ شوریٰ، میرام شاہ شورہ اور پشاور شوریٰ ہیں، یہ پاکستانی شہروں کے نام پر رکھے گئے ہیں جہاں وہ واقع ہیں، ان کے پاکستان  کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔

News Code 1906558

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 2 =