فرانس میں مسلمان خواتین کا حجاب کی حمایت میں آن لائن احتجاج کا اعلان

فرانسیسی حکومت کی طرف سے حجاب کے خلاف قانون سازی کے بعد فرانس میں مسلمان خواتین سے دینی آزاد کا حق چھن جائےگا ، اسی سلسلے میں فرانس میں مسلمان خواتین نے حجاب کی حمایت میں آن لائن احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ فرانسیسی حکومت کی طرف سے حجاب کے خلاف قانون سازی کے بعد فرانس میں مسلمان خواتین سے دینی آزاد کا حق چن جائےگا ، اسی سلسلے میں فرانس میں مسلمان خواتین نے حجاب کی حمایت میں آن لائن احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ 16 سالہ مسلمان خاتون مریم چورک حجاب کو حضرت محمد(ص) سے عقیدت کا اظہار سمجھتی ہیں لیکن فرانسیسی سینیٹرز کی تجویز انہیں بہت جلد عوامی سطح پر حجاب پہننے کی آزادی سے محروم کر سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق فرانس کی سیکولر اقدار کو مستحکم کرنے کے لیے تیار کردہ 'انسداد علیحدگی پسندی' بل میں ترمیم کی گئی ہے جو 18 سال سے کم عمر لڑکیوں پر لاگو ہوتا ہے۔

اس بل پر مسلمان خواتین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں آن لائن 'ہینڈز آف مائی حجاب' کے ہیش ٹیگ سے فرانس سمیت اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

مریم نے کہا کہ یہ میری شناخت کا حصہ ہے، مجھے اس کو ہٹانے پر مجبور کرنا تضحیک آمیز بات ہوگی، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ انہیں اس امتیازی سلوک کا حامل بل منظور کرنے کی ضرورت کیا ہے۔

مذہبی مقامات اور مذہبی علامتوں کے حوالے سے سیکولر ملک فرانس ایک عرصے سے تنازعات کا شکار ہے اور یورپ کی سب سے بڑی مسلم اقلیت فرانس میں ہی رہائش پذیر ہے۔

فرانس نے 2004 میں سرکاری اسکولوں میں اسلامی اسکارف پہننے پر پابندی عائد کردی تھی، 2010 میں اس نے گلیوں، پارکوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور انتظامی عمارتوں جیسے عوامی مقامات پر نقاب کرنے پر مکمل پابندی عائد کردی تھی۔

News Code 1906380

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 7 =