حضرت علی (ع) کی یتیموں ، پڑوسیوں سے حسن سلوک اور قرآن مجید پر عمل کرنے کی سفارش

شیعوں کے پہلے امام حضرت علی (ع) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے بیٹوں، عزیزوں اور مسلمانوں کو پرہیزگاری،یتیموں، پڑوسیوں سے حسن سلوک اور قرآن مجید پر عمل کرنے کی سفارش کی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شیعوں کے پہلے امام حضرت علی (ع) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے بیٹوں، عزیزوں اور مسلمانوں کو پرہیزگاری،یتیموں، پڑوسیوں سے حسن سلوک اور قرآن مجید پر عمل کرنے کی سفارش کی۔ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے وصیت نامہ میں فرمایا: " میں تمہیں پرہیز گاری، مسلمانوں کے درمیان اصلاح، پڑوسیوں اور یتیموں کے حقوق کی رعایت،قرآن مجید پر عمل کرنے اور نماز کی قدر کرنے کی سفارش کرتا ہوں۔"

حضرت علی (ع) ہاشمی خاندان کے وه پہلے فرزند ہیں جن کے والد اور و الده دونوں ہاشمی ہیں ۔ آپ کے والد ابو طالب بن عبد المطلب بن ھاشم ہیں اور ماں فاطمه بنت اسد بن ھاشم ہیں ۔ھاشمی خاندان قبیلہ قریش میں اور قریش تمام عربوں میں اخلاقی فضائل کے لحاظ سے مشھور و معروف تھے ۔ جواں مردی ، دلیری ، شجاعت اور بہت سے فضائل بنی ھاشم سے مخصوص تھے اور یہ تمام فضائل حضرت علی (ع) کی ذات مبارک میں بدرجہ اتم موجود تھے ۔

حضرت علی علیہ السّلام کے امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول اکر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے کبھی یہ کہتے تھے کہ " علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں"  .کبھی یہ فرمایا کہ " میں علم کاشہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں"  . کبھی یہ فرمایا: " آپ سب میں بہترین فیصلہ کرنے والے علی ہیں"  . کبھی یہ فرمایا: " علی کومجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی ". کبھی یہ فرمایا: " علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے" ۔
کبھی یہ فرمایا: " وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں " ۔  یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں علی علیہ السّلام کو نفسِ رسول کاخطاب ملا. عملی اعزاز یہ تھا کہ جب مسجدکے صحن میں کھلنے والے، سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کادروازہ کھلا رکھا گیا . جب مہاجرین وانصار میں بھائی اور اخوت کا رشتہ قائم کیا گیا تو علی علیہ السّلام کو پیغمبر اسلام نے اپنا بھائی قرار دیا۔ اور سب سے اخر میں غدیر خم کے میدان میں مسلمانوں کے مجمع میں علی علیہ السّلام کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس طرح میں تم سب کا حاکم، ولی  اور سرپرست ہوں اسی طرح علی علیہ السّلام، تم سب کے سرپرست، ولی  اور حاکم ہیں۔

حضرت علی بن ابی طالب (ع) کو 19 رمضان سن 40 ہجری  کو مسجد کوفہ میں عبدالرحمن بن ملجم مرادی نے صبح کی نماز میں سجدہ کی حالت میں زہر آلودہ  تلوار سے سر پر وار کرکے زخمی کیا ۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لایا گیا اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے قصاص لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک علی بن ابی طالب بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ حضرت امام حسن علیہ السلام و حضرت امام حسین علیہ السلام نے آپ کی تجہیزو تکفین کی اور آپ کو نجف اشرف میں دفن کردیا۔ نجف اشرف میں آپ کا روضہ مطہر آج بھی عالم انسانیت کے لئے  مشعل راہ  اور وسیلہ نجات ہے۔

News Code 1906371

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 1 =