افغان ریڈیو " آرا " کی ڈائریکٹر نے پانچ سال قبل ریڈیو آرا کو تاسیس کیا

محترمہ مرجان حیدری سن 1374 شمسی میں پیدا ہوئیں اور انھوں نے پانچ سال قبل افغان ریڈیو " آرا" کو تاسیس کیا اور اس سلسلے میں در پیش مشکلات اور پریشانیوں کے بارے میں مہر خبررساں ایجنسی کے ساتھ گفتگو کی۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کے ساتھ  گفتگو میں افغان ریڈیو " آرا " کی ڈائریکٹرمحترمہ مرجان حیدری نے پانچ سال قبل افغان ریڈیو " آرا" کی تاسیس کے سلسلے میں در پیش مشکلات اور پریشانیوں کے بارے میں کہا کہ اسے بچپن سے ہی آواز کی تقلید کرنے کا شوق تھا، جب میں بڑی ہوگئی تو سماجی چینلوں دری زبان میں گویندگی کا آغاز کیا، گویندگی کے شعبہ کے استاد نے مجھے پیغام دیا کہ اس شعبہ میں میری استعداد اچھی اور درخشاں ہے لہذا میں نے تہران میں گویندگی کی کلاسوں میں شرکت کا آغاز کردیا البتہ راستہ دور تھا اور میرے والدین اور خاندان کو اس سلسلے میں کافی تشویش بھی تھی اور وہ اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن میں نے کافی اصرار کے بعد انھیں راضی کرلیا اور ہفتہ میں ایک بار کلاس میں شرکت کے لئے تہران جاتی تھی، یہاں تک کہ سن 1396 شمسی میں میری آواز گویندگی کے لئے ٹسٹ کی گئی اور میں نے آئی فلم چینل کے پروگرام " پنجرہ" سے باقاعدہ طور پر کام کا آغاز کردیا۔

٭ ریڈیو " آرا" کا آئیڈیا آپ کے ذہن میں کیسے آیا؟

میرا گویندگی اوراجرا کی کلاسوں میں شرکت کے بعد افغانتسان کے کچھ جوانوں اور گروہوں سے سامنا ہوا جو اس کام میں دلچسپی اور استعداد بھی رکھتے تھے لیکن انھیں کلاسوں کے اختتام پر ایسا ماحول مہیا نہیں تھا جہاں وہ اپنی استعداد کا مظاہرہ کرسکیں،  لہذا میرے اندر ذرائع ابلاغ کی ایک ٹیم تشکیل دینے کا شوق پیدا ہوا ۔ میں نے دیکھا کہ افغانیوں کے اندر کام کی استعداد موجود ہے اور میں نےاسی وقت میڈیا کی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا اور ریڈیو " آرا" کی تشکیل کا مرحلہ یہاں سے شروع ہوا۔

٭ " ریڈیو کا نام "آرا" رکھنے کی اصل وجہ کیا تھی؟

دوستوں کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد اس نام کا انتخاب کیا یہ نام " آموزش ، روشنگری اور آگاہی کا ماحصل ہے اور یہ امور ریڈیو کے اہداف میں شامل ہیں۔

٭ آپ کو اس کام میں کونسی مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا؟

گروہی کام کی مدیریت سخت کام ہے خاص طور پر جب کہیں سے کوئی حمایت اور پشتپناہی نہ ہو تو اس صورت میں دوسروں کا اعتماد حاصل کرنا آسان کام نہیں، ایک سال تک بڑی مشکلات کا سامنا رہا ، اکثر افراد راستے میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اس سے بھی کام پر اثر پڑسکتا ہے۔ افراد کے انتخاب میں قومیت کا مسئلہ بھی پیش آیا لیکن ہم نے افراد کا انتخاب ان کی استعداد اور توانائیوں پر رکھا ۔ ہمارے لئے قومیت کوئی مسئلہ نہیں تھا اس شعبہ سے دلچسپی رکھنے والے تمام افراد کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔

٭ آپ کو ان مشکلات کے باوجود  کس چیز نے کامیابی کے ساتھ ہمکنار کیا؟

سب سے پہلا احساس یہ تھا کہ اللہ تعالی کی نگاہ ہمیشہ مجھ پر رہتی ہے اور کوئی ایسا لمحہ نہیں کہ جس میں وہ اپنی نظر مجھ سے ہٹا لے، میں کام کو عشق و علاقہ کے ساتھ انجام دیتی ہوں۔ میں گویندگی اور اجرا کے شعبہ میں بھی درآمد کو نہیں دیکھتی بلکہ اپنے کام کو دلچسپی اور محنت کے ساتھ انجام دیتی ہوں۔ کیونکہ مجری کے لئے اثرانداز ہونا ضروری ہے گویندگی کو مؤثر ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں محنت اور دلچسپی ضروری ہے اور یہی فکر میری کامیابی کا اصلی راز ہے میں اپنے آپ کو کامیاب نہیں کہتی لیکن میں اپنے کام کے ساتھ محبت رکھتی ہوں اور اپنی پیشرفت کے سلسلے میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتی ہوں۔

٭ ریڈیو" آرا" کن موضوعات پر کام کرتا ہے؟

ریڈیو آرا میں مختلف موضوعات پر کام جاری ہے جن کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہےجیسے سیاسی، ثقافتی اور سماجی طنزاور یومیہ اخبار وغیرہ میں ہم کام کرتے ہیں۔ افغانستان کی معرفی بھی ہمارے پروگرامز میں شامل ہے ہم طنز پر مشتمل دو تین پروگرام نشر کرتے ہیں۔

٭ افغان معاشرے میں ایک خاتون کے لئے اس قسم کی سرگرمیاں کتنی سخت ہیں؟

افغان معاشرے میں تبدیلی رونما ہورہی ہے مثلا چند سال قبل افغان خاتون کے لئے ایسا کام انجام دینا بہت ہی مشکل تھا لیکن اب فضا قدرے ہموار ہورہی ہے اور افغان خواتین معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔ لڑکیوں کے لئے گویندگی اور اجرائی کام کو افغان معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا تھا اور چند سال قبل ایسا کام حقیقت میں مشکل اور دشوار تھا۔

٭ مہاجرت کے بارے میں روشنی ڈالیں مہاجرت سے کتنے مثبت اثرات مرتب ہوئے؟

افغانستان میں بد امنی اور جنگ و خونریزی کی وجہ سے میرے والدین ہجرت کرکے ایران آگئے، میں نے ایران میں پڑھا  اور یہیں سے میں نے اپنےاہداف کا پیچھا کیا، اگر میں افغانستان میں ہوتی تو بد امنی اور جنگ کے شرائط کی وجہ سے اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی تھی اور ریڈیو " آرا " کو افغانستان میں عملی جامہ نہیں پہنا سکتی تھی امید ہے کہ ایک دن افغانستان میں ہم اس کام کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوجائیں اور اس سلسلے میں افغان نو جوانوں کو ہمارا تعاون کرنا چاہیے۔

News Code 1906245

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 11 =