پاکستانی حکومت کی فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے لئے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش

فرانس میں مقدسات اسلام کی مسلسل توہین کے جرم میں پاکستانی حکومت نے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک قرارداد بھی پیش کی ہے جبکہ امریکہ نواز عرب ممالک میں اس سلسلے میں مکمل خاموشی طاری ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں مقدسات اسلام کی مسلسل توہین  کے جرم میں پاکستانی حکومت نے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک قرارداد بھی پیش کی ہے ۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے معاملے پر منعقدہ اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن پارلیمنٹ امجد علی خان نے فرانسیسی میگزین کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے خلاف قرار داد پیش کی ۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں قرار داد کا متن پڑھ کر سناتے ہوئے امجد علی خان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی صدرمیکرون  نے آزادی اظہار رائے کا سہارا لے کر ایسے افراد کی حوصلہ کی، جو انتہائی افسوسناک عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے پر بحث کی جائے، تمام یورپی ممالک کو اس معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے، تمام مسلمان ممالک کو شامل کرتے ہوئے اس مسئلے کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ بین الاقوامی معاملات کے حوالے سے فیصلہ ریاست کو کرنا چاہیے ۔

انہوں نے اس معاملے پر ایک اسپیشل کمیٹی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کے لیے میری خصوصی درخواست ہے۔

رکن اسمبلی امجد علی خان نے ناموس رسالت (ص) کی قرارداد کا متن ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان میں فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کی قرارداد پر بحث کی جائے اور معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فرانس اور یورپ کو اس معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے ، فرانسیسی صدر کی جانب سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی حوصلہ افزائی افسوس ناک ہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں قرارداد پر کل بروز جمعہ مزید غور کیا جائےگا۔

ایک طرف پاکستان اسلامی مقدسات کے دفاع میں بھر پور تلاش و کوشش کررہا ہےجبکہ دوسری طرف امریکہ نواز عرب ممالک پر اس سلسلے میں مکمل طور پرخاموش تماشائي بنے ہوئے ہیں ۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس سلسلے میں سخت اور منطقی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ممالک جسطرح ہولوکاسٹ کے خلاف کسی کو بولنے کی اجازت نہیں دیتے اسی طرح انھیں اسلامی مقدسات کا احترام کرنا چاہیے اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کسی کو اجازت نہیں دینی چاہیے۔ فرانس کے صدر میکرون نے توہین آمیز خاکوں کی حمایت کرکے سنگين غلطی اور جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔ مغربی ممالک میں اس سے پہلے بھی اس قسم کے توہین اقدامات انجام دیئے گئے ہیں۔ پاکستانی حکومت کے اقدامات قابل قدر اور اہمیت کے حامل ہیں اور اسلامی مقدسات کے بارے میں پاکستانی عوام کی بیداری اور ہوشیاری بھی قابل تحسین ہے۔

ایک طرف پاکستان میں مقدسات اسلامی کے دفاع کے سلسلے میں اقدامات انجام پارہے ہیں تو دوسری طرف سعودی عرب نے فرانسیسی اقدامات کی حمایت کردی، سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کے دینی امور کے مشیر محمد بن عبدالکریم العیسی نے فرانسیسی حکومت کے توہین آمیز اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کو یا مغربی ممالک کے قوانین کا احترام کرنا چاہیے یا پھر ان ممالک کو ترک کردینا چاہیے۔

سعودی عرب کے ولیعہد کے دینی امور کے مشیر نے اس سے قبل فرانس میں غیر ملکی آئمہ جماعات کے داخلہ پر پابندی کی بھی حمایت کی تھی اور فرانسیسی صدر کی طرف سے مساجد کو محدود کرنے کے اقدام کو بھی جائز قراردیا تھا۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے ہمیشہ اسلام کے تابناک چہرے کو مخدوش بنا پیش کرنے کی کوشش کی اور اس نے حقیقی اسلام کی معرفی کے بجائے دنیا میں وہابیت کے گمراہ کن نظریہ کو فروغ دیا ۔

پاکستان میں مقدسات اسلامی کے دفاع کے سلسلے میں بہت بڑی ظرفیت موجود ہے، پاکستان ایک اہم اسلامی ملک ہے اور فرانس کے خلاف پاکستان کا عملی اقدام مغربی ممالک کے لئے سبق آموز بھی ثابت ہوسکتا ہے لیکن اس سلسلے میں تمام اسلامی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کی حمایت کریں اور پاکستانی حکومت اور عوام کا اس سلسلے میں بھر پور تعاون کریں ۔  اسلامی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقدسات اسلام کے خلاف گستاخی کو فروغ دینے کی مغربی ممالک کو اجازت نہ دیں اور اس سلسلے میں مغربی مالک کے خلاف عملی اور ٹھوس اقدامات عمل میں لائیں۔

News Code 1906211

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =