چینی حکومت نے علی بابا پراربوں ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا

چینی حکومت نے انسدادِ اجارہ داری قانون کے تحت دنیا کے سب سے بڑے آن لائن پورٹل علی بابا پراربوں ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ چینی حکومت نے  انسدادِ اجارہ داری قانون کے تحت دنیا کے سب سے بڑے آن لائن پورٹل علی بابا پراربوں ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ 

اطلاعات کے مطابق چینی ریگرلیٹرز کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ جائنٹ "  علی بابا" گزشتہ کئی سالوں سے مارکیٹ میں اپنے تسلط کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔

رواں سال فروری میں چینی حکومت نے انٹرنیٹ کمپنیوں کے لیے انسداد اجارہ داری ( اینٹی مونو پولی) قانون متعارف کروایا تھا، جس کے تحت انسداد  مسابقت طرز عمل کے خلاف کریک ڈاؤن کی کوششیں کی گئی۔  اس قانون سازی کا مقصد چین کے بڑے ای کامرس پلیٹ فارمز علی بابا اور جی ڈی ڈاٹ کام کو مارکیٹ میں ان کی غالب پوزیشن کے غلط استعمال سے روکنا تھا۔

یاد رہے کہ چین میں علی بابا کو ایک بڑااور طاقتور گروپ سمجھا جاتا ہے۔ علی بابا کا مرکزی کام تو ریٹیل( خوردہ فروشی ) ہے لیکن اس نے اپنے کام کا دائرہ کار ڈیجیٹل ادائیگیوں، کریڈٹ اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ تک پھیلا دیا ہے۔

ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ علی بابا نے کچھ سیلرز( سامان فروخت کرنے والے)  کو دوسرے پلیٹ کے استعمال سے روک کر مسابقت کو روکا ہے۔  گزشتہ ماہ بارہ چینی کمپنیوں پراسی قانون ( اینٹی مونو پولی) کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کیے گئے تھے، تاہم علی بابا کا کیس چین کا ہائی پروفائل اینٹی مونو پولی کیس ہے۔

چینی حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے 2 ارب75 کروڑ ڈالر جرمانے پر کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم اس قانون کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر  عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔ واضح رہے کہ جرمانے کی رقم علی بابا کی 2019 میں ہونے والی آمدن کا محض 4 فیصد ہے۔

News Code 1906040

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 1 =